لندن: برطانیہ نے پاکستان کے حمایت یافتہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ہفتے کے روز 200 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ 'فلسطین ایکشن' نامی کالعدم تنظیم کے حامیوں نے پارلیمنٹ کے باہرپرتشدد احتجاج کیا، جس کا مبینہ طور پر حماس اور پاکستانی بنیاد پرست نیٹ ورک سے تعلق ہے۔ یہ تنظیم اس سے قبل برطانوی فضائیہ کے اڈے میں داخل ہو کر فوجی طیاروں کو نقصان پہنچانے میں بھی ملوث رہی ہے۔ مظاہرین نے پولیس کو ان کی گرفتاری کا کھلا چیلنج کیا جس کے بعد پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کردیا۔
برطانوی پارلیمنٹ نے جولائی کے اوائل میں 'فلسطین ایکشن' نامی گروپ پر پابندی کے لیے ایک قانون منظور کیا تھا۔ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی تھی کہ گروپ کے کارکن مبینہ طور پر برطانوی فضائیہ کے اڈے میں داخل ہوئے اور دو طیاروں کو نقصان پہنچایا۔ کارکن غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کے حملوں کی حمایت کرنے پر برطانیہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
اس گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت اظہار رائے کی آزادی کو غیر قانونی طور پر روک دیا گیا ہے۔ ہفتے کو 500 سے زائد مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر جمع ہوئے اور کئی مظاہرین نے پولیس کو چیلنج کیا کہ وہ انہیں گرفتار کر لے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین کے اقدام کی حمایت کرتا ہوں۔ اس دوران پولیس نے 200 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔