انٹرنیشنل ڈیسک: پاکستان ایک بار پھر اپنی چالبازیوں سے نہ صرف ہندوستان بلکہ امریکہ کے اندر بھی سیاسی مساوات کو بگاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تازہ ترین انکشافات میں سامنے آیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی ارب پتی خاندان سے تعلقات مضبوط کرکے ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہندوستان مخالف موڑ دینے کی سازش کی۔ اس نیٹ ورک کے مرکز میں جیکری وٹ کوف نامی ایک شخص ہے، جو ٹرمپ کے بہت قریب ہے اور ان کے کاروباری حلقے کا ایک اہم چہرہ ہے۔

ذرائع کے مطابق جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی تو جیکری وٹ کوف اسلام آباد پہنچ گئے۔ وہاں ان کا استقبال محض ایک سفارتی رسمی نہیں تھا، بلکہ ایک بڑے اقتصادی سیاسی معاہدے کا حصہ تھا۔ دراصل ، پاکستان نے حال ہی میں ورلڈ لبرٹی فنانشل (WLF) نامی کرپٹو کرنسی وینچر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں ٹرمپ خاندان کا 60 فیصد حصہ بتایا جارہا ہے ۔ یہی نہیں، اس ڈیل سے قبل ڈبلیو ایل ایف کے اعلی نمائندے کی حیثیت سے جیکری وٹ کوف نے اسلام آباد میں عاصم منیر اور شہباز شریف سے ملاقات کی۔

یہ ڈیل پاکستانی "کرپٹو کونسل" کے ذریعے کی گئی تھی، جو اپریل میںجلد بازی میں شروع کی گئی تھی اور جس میں Binance کے بانی چانگ پینگ ژاؤ (CZ) کو مشیر بنایا گیا تھا۔ دعوی کیا جارہا ہے کہ اس ڈیل کے ذریعے پاکستان خود کو جنوبی ایشیا کا کرپٹو کیپٹل کے طور پر قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ اصل مقصد امریکی طاقت کی راہداریوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دونوں بیٹے ایرک ٹرمپ اور ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر کے ساتھ ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی ڈبلیو ایل ایف میں شیئر ہولڈر ہیں۔ یعنی پاکستان نے جیکری وٹ کوف( Zachary Witkoff)کو پیادے کے طور پر استعمال کر کے براہ راست ٹرمپ خاندان تک پہنچ بنائی اور اب اس نیٹ ورک کے ذریعے امریکی خارجہ پالیسی میں ہندوستان مخالف جھکا ؤ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔