انٹرنیشنل ڈیسک: آمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان نا گورنو - کاراباخ کو لیکر جاری جنگ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک نے اب ایک دوسرے کے علاقے پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دریں اثنا ترکی نے آرمینیا کو دھمکی دی ہے ، وہیں اس جنگ میں پاکستان کا کردار بھی سامنے آیا ہے ۔ ترکی کی اس دھمکی کے بعد آرمینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک سوکھوئی 25 طیارہ ترکی کے ایف 16 طیارے کے ذریعہ گرایا گیا ہے۔ اس پورے تنازعہ میں ترکی کے کودنے کے بعد اب روس کے ساتھ اس کی پراکسی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

دھر ، ترکی اور آذربائیجان دونوں نے آرمینیا کے سکھوئی لڑاکا طیارے کو مارنے سے انکار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ، ترک صدر رجب طیب اردوغان نے دھمکی دی ہے کہ وہ ناگورنو- کاراباخ پر قبضہ کرنے میں آذربائیجان کی مدد کریں گے۔ روس اور امریکہ کے امن کی فوری اپیلوں کے بعد بھی آرمینیا اور آذربائیجان کی جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔ آذر بائیجان کے صدر نے روسی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں آرمینیا کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات کے امکان سے انکار کیا ہے۔ ٹیلیفونک گفتگو میں یہ بھی انکشاف بھی ہوا ہے کہ اس لڑائی میں آذربائیجان کی طرف سے پاکستانی فوج اور خونخوار دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ آرمینیا کی فوج کی مدد سے مقامی لوگوں نے آذربائیجان کے کچھ علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

اس تازہ صورتحال کی وجہ سے اس تنازعہ کو حل کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو جھٹکا لگا ہے ۔ سلامتی کونسل نے امن مذاکرات میں ثالثی کی کوشش کرنے والے 'آرگنائزیشن آف سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یوروپ ' کے مرکزی کردار کو اپنی پوری حمایت دینے کے ارادے کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقوں درخواست کی کہ جلد از جلد مذاکرات شروع کرنے کے لئے ان کے ساتھ بلا شرط تعاون کریں ۔ دریں اثنا میں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آرمینیا اور آذربائیجان سے درخواست کی کہ وہ ناگورنو - کاراباخ کے متنازعہ خطے پر جاری تنازعہ کو فوری طور پر بند کردیں۔

اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور ادارہ نے فورسز کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹریس کی فوری طور پر لڑائی روکنے اور معنی خیز بات چیت کے لئے آگے آنے کی درخواست کی حمایت کی۔ زیادہ تر پہاڑی علاقے سے گھرا ہوا ناگورنو - کارا باخ 4400 مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اورآرمینیا کی سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے۔