اسلام آباد: ہندوستانی ایئرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کو دو ماہ میں 4.1 بلین روپے کا نقصان ہوا، سرکاری اعداد و شمار میں یہ جانکاری دی گئی ہے ۔ 22 اپریل کو کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان اور ہندوستان نے ایک دوسرے کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
فضائی حدود کی پابندی میں اس وقت توسیع کی گئی جب دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ فوجی تنازعے کے باعث تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ ہندوستان نے 6 مئی کی رات کو 'آپریشن سندور' کے تحت پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے تھے ۔ ڈان اخبار کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ وزارت دفاع نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہندوستان میںرجسٹرڈ طیاروں کے لیے فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو 4.1 بلین روپے کا نقصان ہوا ہے ۔
وزارت نے کہا کہ یہ نقصان 24 اپریل سے 30 جون کے درمیان کا ہے ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ رقم کل نقصان نہیں بلکہ صرف آمدنی میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ فضائی حدود اور فضائی خدمات کے استعمال کے چارجز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود ہندوستانی ایئر لائنز اور طیاروں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہیں۔ اسی طرح پاکستانی ایئرلائنز کمپنیوں کے طیاروں کے ہندوستانی فضائی حدود میں داخلے پابندی جاری ہے ۔