انٹر نیشنل ڈیسک :نیپال کی راہ پر پاکستان بھی چل پڑا ہے ۔ پاکستان کی عمران خان حکومت نے متنازعہ نقشہ کو منظوری دے دی ہے۔ اس نقشے میں پاکستان نے کشمیر کو اپنا بتایا ہے۔ پہلے پاکستان صرف پی او کے کو اپنا حصہ کہتا تھا ، لیکن اب نئے نقشہ میں کشمیر کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان نے نئے نقشہ کے ساتھ لداخ ، سیاچن سمیت گجرات کے جوناگڑھ تک پر دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اسے پاکستان کی تاریخ کا تاریخی دن قرار دیا۔ متنازعہ نقشہ کو منظوری عمران خان کی کابینہ میں دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد عمران خان نے ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا۔ نقشہ میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ بتایا گیا ہے۔جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے ایک سال مکمل ہونے سے ایک دن قبل ہی پاکستان نے یہ متنازعہ نقشہ جاری کیا ہے۔

بتادیں کہ گذشتہ سال 5 اگست کو مودی سرکار نے جموں وکشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا تھا۔ ہندوستان کے اس اقدام کے بعد پاکستان کی بوکھلاہٹ بھی دیکھی گئی تھی ۔ اس نے دنیا کے سامنے گہار بھی لگائی تھی اور اب اپنے ملک کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اس نے ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے۔ دریں اثنا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیا نقشہ اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے گا۔

قبل ذکر ہے کہ پاکستان سے پہلے نیپال بھی ایسا ہی کام کرچکا ہے۔ اس نے بھی متنازعہ نقشے کی منظوری دی ، جس میں ہندوستان کے کالاپانی ، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کو شامل کیا گیا ہے۔ نیپال نے متنازعہ نقشہ کو 20 مئی کو جاری کیا تھا ، جسے وہاں کی پارلیمنٹ نے بھی منظور کرلیا ہے۔ اب وہ اس متنازعہ نقشہ کو اقوام متحدہ کی تنظیم (یو این او) اور گوگل سمیت بین الاقوامی برادری کو بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔