وکٹوریہ: آسٹریلیا اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس شدید گرمی کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے سخت وارننگ جاری کی گئی ہے۔
درجہ حرارت نے توڑ ے پرانے ریکارڈ
وکٹوریہ ریاست کے دیہی قصبوں ہوپٹون اور والپیوپ میں درجہ حرارت 48.9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگر ان اعداد و شمار کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 2009 کے بلیک سیٹرڈے کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا، جب شدید آگ کے باعث 173 افراد کی موت ہو گئی تھی۔
دیگر ریاستوں کا حال۔
نیو ساوتھ ویلز اور ساوتھ آسٹریلیا میں بھی درجہ حرارت 2019 کی شدید آگ کے دوران ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت سے تجاوز کر گیا ہے۔
آسٹریلین اوپن پر گرمی کا اثر۔
میلبورن میں جاری آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ بھی اس گرمی سے متاثر ہوا ہے۔ گرمی کے باعث شائقین کی تعداد 50 ہزار سے کم ہو کر 21 ہزار رہ گئی ہے۔ آریانا سبالینکا اور ایوا جووک کے میچ کے دوران کھلاڑیوں کو سر پر آئس پیک اور چہرے کے سامنے پورٹیبل پنکھے رکھتے ہوئے دیکھا گیا۔ منتظمین نے مرکزی اسٹیڈیمز کی چھتیں بند کر دی ہیں اور بیرونی کورٹس کے میچ ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ فوٹوگرافروں کو بھی گرم زمین سے بچانے کے لیے کشن فراہم کیے گئے اور انہوں نے اپنے کیمروں کو تولیوں سے ڈھانپ کر رکھا۔
جنگلاتی آگ کا خطرہ۔
اگرچہ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم وکٹوریہ میں تین جنگلاتی آگ بے قابو ہو کر بھڑک رہی ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔
آنے والے دنوں کا اندازہ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز درجہ حرارت میں کچھ کمی آنے کی امید ہے، لیکن گرمی کی یہ لہر ہفتے کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہے۔ اسے اس سال کی اب تک کی سب سے سنگین گرمی کی لہروں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔