نئی دہلی: کانگرس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں شہریوں کو’زہریلے پانی‘کی فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتظامیہ کی لاپرواہی قرار دیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا ہے کہ وہ آخر ایسے حساس معاملات پر بھی اپنی خاموشی کیوں نہیں توڑتے؟ انہوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی عوام کا حق ہے لیکن بی جے پی کی لاپرواہ حکومت لوگوں میں ’زہریلا پانی‘ بانٹ رہی ہے۔ متاثرہ کنبوں کو تسلی دینے کے بجائے بی جے پی رہنما متکبرانہ بیانات دے رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم اس سنگین اور انتہائی حساس مسئلے پر بھی خاموش ہیں۔
مسٹر گاندھی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘پر لکھا،”اندور میں پانی نہیں، زہر بٹا اور انتظامیہ ’کمبھ کرن‘ کی نیند سوتی رہی۔ گھر گھر ماتم ہے، غریب بے بس ہیں اور اوپر سے بی جے پی لیڈروں کے متکبرانہ بیانات۔ جن کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں، انہیں تسلی کی ضرورت تھی لیکن حکومت نے متکبرانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، ”اندور کے لوگوں نے بار بار گندے اور بدبودار پانی کی سپلائی کی شکایت کی پھر بھی سماعت کیوں نہیں ہوئی؟ سیور کی گندگی پینے کے پانی میں کیسے ملی؟ وقت رہتے پانی کی فراہمی بند کیوں نہیں کی گئی اور ذمہ دار افسروں اور لیڈروں پر کارروائی کب ہوگی؟ یہ بے مقصد سوال نہیں ہیں، بلکہ یہ جوابدہی کا مطالبہ ہے۔ صاف پانی احسان نہیں، زندگی کا حق ہے اور اس حق کے قتل کے لیے بی جے پی کا ’ڈبل انجن‘، اس کی لاپرواہ انتظامیہ اور بے حس قیادت پوری طرح ذمہ دار ہے۔“