انٹر نیشنل ڈیسک : نیپال میں شدید سردی کے درمیان انتخابی سیاست پوری طرح گرما گئی ہے۔ پانچ مارچ کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے تین اہم سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم کے لیے اپنے اپنے امیدوار نامزد کر دیے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (UML) نے 74 سالہ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو ایک بار پھر وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے۔ جبکہ، نیپال کی سب سے پرانی جماعت نیپالی کانگریس اور نوتشکیل شدہ نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی نے 50 سال سے کم عمر کے نوجوان رہنماؤں کو آگے کیا ہے۔
نیپالی کانگریس نے 49 سالہ گگن تھاپا کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے۔ حال ہی میں پارٹی کے صدر بننے والے تھاپا کو جین زیڈ (جنریشن زیڈ) نوجوانوں کا نمائندہ مانا جا رہا ہے۔ تاہم، سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کے قیادت والے گروپ نے انتخابی کمیشن کی جانب سے تھاپا گروپ کو دی گئی منظوری کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ میں ایک اور بڑا نام 35 سالہ بالیندر شاہ عرف ' بالین ' ابھرا ہے۔ کٹھمنڈو کے سابق میئر بالین، جو انجینئر اور ریپر سے رہنما بنے، اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر اب نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی سے انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ انہوں نے نامزدگی جمع کروانے کے لیے میئر کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
سب سے دلچسپ مقابلہ جھاپاحلقہ میں 5 سیٹ پر دیکھنے کو ملے گا، جہاں آدھی عمر کے بالین کا سامنا پانچ دہائیوں سے فعال سیاست کرنے والے اولی سے ہوگا۔ اولی اس حلقے سے چھ مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں اور پچھلے انتخابات میں انہوں نے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ انتخاب صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ پرانی سیاست اور نئی نسل کی سوچ کے درمیان فیصلہ کن مقابلہ بن چکا ہے۔ جین زیڈ نوجوان، پچھلے پرتشدد واقعات اور سخت حکمرانی کے انداز کے سبب اولی سے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، اگر نوجوان امیدواروں کی مقبولیت ووٹوں میں بدلے، تو نیپال کی سیاست میں تاریخی تبدیلی ممکن ہے۔