Latest News

ریاضی میں کیوں پیچھے رہ جاتی ہیں لڑکیاں؟ جینڈر گیپ کا چونکانے والا انکشاف، برطانیہ کی تحقیق نے پرتیں کھول دیں

ریاضی میں کیوں پیچھے رہ جاتی ہیں لڑکیاں؟ جینڈر گیپ کا چونکانے والا انکشاف، برطانیہ کی تحقیق نے پرتیں کھول دیں

لندن :  برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم رشی سُنک اور ان کی اہلیہ اکشتا مورتی کی جانب سے قائم کی گئی تعلیمی فلاحی تنظیم  'دی رچمنڈ پروجیکٹ'  کے ایک نئے سروے میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ مطالعے کے مطابق، ماں کی ریاضی کے بارے میں گھبراہٹ اور خود اعتمادی کی کمی لاشعوری طور پر ان کی بیٹیوں تک منتقل ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ریاضی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اتوار کو دی سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، چار سے آٹھ سال کی عمر میں ہی یہ فرق دکھائی دینے لگتا ہے۔ جہاں 51 فیصد لڑکے ریاضی کو آسان سمجھتے ہیں، وہیں صرف 41 فیصد لڑکیاں ایسا سوچتی ہیں۔ یہ فرق عمر کے ساتھ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ 9 سے 18  سال کی عمر میں 86 فیصد لڑکے ریاضی میں خود اعتمادی محسوس کرتے ہیں، جبکہ لڑکیوں کی شرح صرف 63 فیصد رہ جاتی ہے۔
اکشتا مورتی نے بتایا کہ خواتین اکثر بچوں کے ریاضی کے ہوم ورک میں مدد کرتے وقت زیادہ گھبراہٹ محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بچی اپنی ماں کو ریاضی سے خوفزدہ دیکھتی ہے تو وہ لاشعوری طور پر وہی خوف اپنا لیتی ہے۔ یہی تشویش نسل در نسل آگے بڑھتی رہتی ہے۔ اکشتا مورتی نے اپنے خاندانی پس منظر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ سدھا مورتی ایک انجینئر رہی ہیں اور خاندان میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی سے وابستہ کئی رول ماڈلز موجود رہے، جس کی وجہ سے ریاضی کے بارے میں ان کا نقط نظر مثبت رہا۔
'دی رچمنڈ پروجیکٹ ' کا مقصد روزمرہ زندگی میں ریاضی کے استعمال کو آسان اور عملی بنانا ہے، جیسے بجٹ بنانا، خریداری کی منصوبہ بندی کرنا، کھانا پکانے کی مقدار طے کرنا یا سفر کے وقت کو سمجھنا۔ اس مطالعے میں 8  ہزار بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ تعداد میں اعداد کے حوالے سے گھبراہٹ محسوس کرتی ہیں۔ کام کی جگہ پر صرف 43 فیصد خواتین نمبروں کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 61 فیصد ہے۔ اکشتا مورتی کا ماننا ہے کہ ریاضی کو کسی خوفناک اور مجرد مضمون کے بجائے مسئلہ حل کرنے کی مہارت کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ پہیلیاں، کراس ورڈ اور نمبر گیمز کھیلتی ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top