انٹرنیشنل ڈیسک: وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں امریکہ کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی پر عالمی سطح پر سخت ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جنیوا میں ہندوستان کے سابق مستقل نمائندے دلیپ سنہا نے اس کارروائی کو گرفتاری نہیں بلکہ اغوا قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی بتایا ہے۔ دلیپ سنہا نے کہا، یہ تکنیکی طور پر گرفتاری نہیں ہے بلکہ اغوا ہے۔ وینزویلا میں امریکہ کا کوئی دائر اختیار نہیں بنتا۔ کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو زبردستی اٹھا کر امریکہ لے جانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کی اس کارروائی کے پیچھے اصل مقصد وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
سنہا نے کہا، امریکہ نے نارکو ٹیرر ازم کو بہانہ بنایا ہے، جبکہ لاطینی امریکہ کے کئی دوسرے ممالک کوکین کی اسمگلنگ میں زیادہ بدنام رہے ہیں۔ وینزویلا کے حوالے سے ایسے الزامات نسبتاً کم رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر نکولس مادورو پہلے ہی امریکہ کو تعاون اور بات چیت کی پیشکش کر چکے تھے۔ ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مادورو کو اغوا کرنا نہایت عجیب اور جارحانہ قدم ہے۔ ہندوستان کے ردِعمل پر بات کرتے ہوئے دلیپ سنہا نے کہا کہ ہندوستان کی خاموشی اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا، بڑی طاقتوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر ہندوستان عموماً تحمل سے کام لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی طویل مدتی پالیسی رہی ہے۔ ہندوستان پر اس کے اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی تعلقات محدود ہیں، اس لیے براہِ راست اثر کم ہوگا، لیکن ایک سپر پاور کی جانب سے اس قدر بے خوف ہو کر بین الاقوامی قانون توڑنا پوری عالمی نظام کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آج کی دنیا میں امریکہ، چین اور روس تینوں بڑی طاقتیں حد سے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر رہی ہیں، جس سے عالمی توازن خطرے میں پڑ گیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہفتے کے روز امریکہ نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تھی، جس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز کو گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ پر نیویارک کی عدالت میں منشیات کی اسمگلنگ اور نارکو ٹیرر ازم سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔