اسلام آباد: پاکستان میں ایک بار پھر انتہا پسندی اور قانون کے درمیان ٹکراؤ کھل کر سامنے آیا ہے۔ جمعیت علما ء اسلام (JUI-F) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف حکومت کی جانب سے لائے گئے خاندانی قوانین میں اصلاحات کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے متنازع بیان دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے بچوں کی شادی کو روکنے والے بل 2025 کے خلاف بولتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف 10 سال تک کے بچوں کی شادی کرائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان شادیوں میں خود شامل ہوں گے اور حکومت کے قانون کو "کھلے عام توڑیں گے"۔
پاکستانی پارلیمان نے حال ہی میں گھریلو تشدد(روک تھام اور تحفظ)ایکٹ 2026 پاس کیا ہے، جس میں بچوں اور خواتین کے خلاف جسمانی، ذہنی اور جذباتی تشدد کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد کے علاقے میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے ان قوانین کو "غیر اسلامی اور غیر آئینی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو مذہبی امور میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا جائے۔ ان کے اس بیان کے بعد پاکستان میں سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے کارکنوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ پاکستان میں مذہبی اقتدار، آئین اور انسانی حقوق کے درمیان طویل عرصے سے چلنے والے تصادم کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔