لندن: برطانیہ کی سیاست میں ایک نہایت حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ یمن میں برطانوی تجارتی سفارتخانہ، ایک چرچ اور ایک ہوٹل کو اڑانے کی سازش کے لیے پانچ سال قید کاٹ چکا ایک مجرم دہشت گرد اب برمنگھم سٹی کونسل کے انتخاب میں حصہ لے رہا ہے۔ ٹیلگراف کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی مقامی سیاست میں ایک نہایت متنازعہ واقعہ سامنے آیا ہے۔ دہشت گرد سازش میں ملوث رہنے کی وجہ سے قید کاٹ چکا شاہد بٹ (60) اب برمنگھم سٹی کونسل کے انتخابات میں حصہ لینے جا رہا ہے۔ وہ خود کو پرو غزہ امیدوار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
شاہد بٹ کو ماضی میں ہتھیاربند دہشت گرد سازش سے متعلق مقدمے میں جیل بھیجا گیا تھا۔ تاہم اب اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں سنگین غلطیاں کی تھیں جن پر اسے پچھتاوا ہے۔ بٹ کا کہنا ہے کہ وہ اب جمہوری عمل کے ذریعے عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ "اللہ کی مدد سے" انتخابات جیتے گا۔ وہ اسپارک ہل علاقے سے انتخاب لڑ رہا ہے، جہاں تقریباً دو تہائی آبادی پاکستانی پس منظر سے منسلک بتائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی امیدواریت کے بارے میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔
نقاد کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ برطانیہ کے امیدواروں کی جانچ (ویٹنگ) کے عمل پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ایک سزا یافتہ دہشت گرد کو انتخاب لڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ فی الحال یہ معاملہ برطانیہ میں سکیورٹی، سیاست اور جمہوریت کے تصادم کی علامت بنتا جا رہا ہے اور آنے والے انتخابات میں اس پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اس واقعے نے برطانیہ میں انتخابی امیدواروں کی جانچ (ویٹنگ) کے عمل پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک سزا یافتہ دہشت گرد کو مقامی انتخابات لڑنے کی اجازت کیسے ملی۔