واشنگٹن: وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا مچاڈو کی جانب سے اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دینے یا ان کے ساتھ سانجھا کرنے کی خواہش پر نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے سخت الفاظ میں پابندی لگا دی ہے۔ ناروے میں قائم نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوبیل امن انعام کے اعلان کے بعد نہ اسے روکا جا سکتا ہے، نہ کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور ہمیشہ کے لیے برقرار رہتا ہے۔
Nobel war prize heads block Machado bid to hand gong to Trump
'Nobel prize cannot be revoked/transferred the decision stands for all time' — committee pic.twitter.com/i5MLH40Y1U
— RT (@RT_com) January 11, 2026
دراصل ، مچاڈو نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز پر یہ بیان دیا تھا کہ وہ اپنا انعام ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں یا کم از کم ان کے ساتھ سانجھا کرنا چاہیں گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے سے متعلق امریکی مہم کی نگرانی کی ہے، اس لیے وہ اس اعزاز کے مستحق ہیں۔
The Norwegian Nobel Institute said the Nobel Peace Prize cannot be transferred, shared, or revoked, following remarks by Venezuelan opposition leader María Corina Machado suggesting she might give her 2025 award to U.S. President Donald Trump.https://t.co/OiEJLv1eRg
— SABC News (@SABCNews) January 10, 2026
تاہم، نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے اس بیان کو قواعد کے خلاف قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ نوبیل انعام ذاتی خواہش یا سیاسی پسند کی بنیاد پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کرتے رہے ہیں، لیکن اس تازہ پیش رفت نے ان کی امیدوں کو ایک بار پھر دھچکا دیا ہے۔ اس پورے تنازع نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ نوبیل کے پلیٹ فارم پر سیاسی جذبات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔