انٹرنیشنل ڈیسک: ایران جنگ پر امریکہ کو یورپی ممالک کی طرف سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ نیٹو کے اہم رکن اٹلی اور اسپین نے امریکی جنگی طیاروں کو اپنے فضائی علاقے اور فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
اٹلی نے سسلی میں واقع سیگونیلہ فضائی اڈہ استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔
اٹلی کی جارجیا میلونی حکومت نے سسلی میں واقع سیگونیلہ فضائی اڈے پر امریکی فوجی طیاروں کو اترنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بمبار طیارے اس اڈے کو مشرق وسطیٰ کی پروازوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اٹلی کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی اور نہ ہی اطالوی فوجی قیادت سے مشورہ کیا جو دو طرفہ معاہدوں کے تحت لازمی ہے۔ وزیر اعظم میلونی نے واضح کر دیا ہے کہ مستقبل میں ایسی کسی بھی درخواست پر پارلیمنٹ کی منظوری لینا ضروری ہوگا۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت پر دباو ڈالا ہے کہ اٹلی کو اس جنگ سے دور رکھا جائے۔
اسپین نے اپنا فضائی راستہ بند کر دیا۔
اس سے پہلے اسپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے سخت مو¿قف اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسپین کا فضائی علاقہ ان امریکی طیاروں کے لیے بند رہے گا جو ایران پر حملوں میں شامل ہیں۔ اسپین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے گا اور نہ ہی اپنے فضائی راستے سے جنگی طیاروں کو گزرنے دے گا۔
سوئٹزرلینڈ نے ہتھیاروں کی برآمد پر لگائی پابندی۔
یورپ کے غیر جانب دار ملک سوئٹزرلینڈ نے بھی امریکہ کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ سوئس حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ تنازع کو دیکھتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو جنگی سامان اور ہتھیاروں کی برآمد کا اجازت نامہ جاری نہیں کرے گی۔ سوئٹزرلینڈ نے اپنی غیر جانب داری کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی مسلح تنازع کو بڑھاوا نہیں دے سکتا۔
یورپ میں بڑھتی مخالفت۔
یورپی ممالک کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ نیٹو اتحادیوں کا یہ عدم تعاون آنے والے دنوں میں امریکہ کی جنگی حکمت عملی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔