واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ڈنمارک گزشتہ دو دہائیوں سے گرین لینڈ میں روس سے وابستہ سلامتی کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور اب امریکہ اس معاملے پر فیصلہ کن قدم اٹھائے گا۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا، نیٹو گزشتہ 20 برسوں سے ڈنمارک سے کہتا آ رہا ہے کہ گرین لینڈ سے روسی خطرے کو دور کیا جائے۔ بدقسمتی سے ڈنمارک کچھ بھی نہ کر سکا۔ اب وقت آ گیا ہے اور یہ ہو کر رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کئی یورپی ممالک کے درمیان گرین لینڈ کے معاملے پر سنجیدہ سفارتی کشیدگی ابھر رہی ہے۔ 2025 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ مسلسل گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی مسابقت اور روس اور چین کی سرگرمیوں کے باعث امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ انتہائی اہم ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور یہ ڈنمارک کی سلطنت کا خودمختار علاقہ ہے۔ تاہم دفاع اور خارجہ پالیسی پر کنٹرول اب بھی کوپن ہیگن کے پاس ہے۔ امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں ایک بڑا فوجی اڈہ چلاتا ہے۔
اسی دوران یورپی ممالک نے ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ یورپ متحد ہے اور انہیں براعظمی حمایت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، ہم دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے آنے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا، جو جون سے بڑھ کر 25 فیصد ہو سکتا ہے اگر گرین لینڈ کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ کو لے کر یہ کشیدگی نیٹو، یورپ- امریکہ تعلقات اور آرکٹک خطے کے استحکام پر دور رس اثرات ڈال سکتی ہے۔