National News

ایران نے اسرائیل کے خلاف کیا کلسٹر بم کا استعمال، روس اور چین کے کردار پر کیوں اٹھے سوال ؟

ایران نے اسرائیل کے خلاف کیا کلسٹر بم کا استعمال، روس اور چین کے کردار پر کیوں اٹھے سوال ؟

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی طرف کلسٹر بموں سے لیس بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ موجودہ جنگ میں ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی یہ پہلی اطلاع بتائی جا رہی ہے۔ کلسٹر ہتھیار جدید جنگ کے سب سے متنازع ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک بڑے دھماکے کی بجائے فضا میں پھٹ کر درجنوں چھوٹے چھوٹے بموں کو بڑے علاقے میں پھیلا دیتے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے کچھ کلسٹر میزائل فضا میں 80 تک چھوٹے بم چھوڑ سکتے ہیں جو کئی کلو میٹر کے دائرے میں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کے آنے سے جنگ کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ایک جگہ ایک بڑا دھماکہ ہونے کے بجائے کئی چھوٹے چھوٹے دھماکے الگ الگ مقامات پر ہوتے ہیں۔ اس سے عام شہریوں کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے اور کئی بار چھوٹے بم زمین پر بغیر پھٹے پڑے رہ جاتے ہیں جو طویل عرصے تک جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب بحث صرف فوجی خطرے کی نہیں رہی بلکہ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایران نے یہ صلاحیت کیسے حاصل کی۔ ایسے ملک میں جہاں جدید ہتھیاروں کے پروگرام سے وابستہ سائنس دانوں کو پہلے کئی بار قتل کیا جا چکا ہے وہاں اتنی بڑی صلاحیت کیسے تیار ہوئی۔ اسرائیلی ماہرین نے اشارہ دیا ہے کہ اس میں بیرونی مدد ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے روس یا چین سے فوجی ٹیکنالوجی ملنے کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
تل ابیب کے قریب حملہ
اسرائیلی حکام کے مطابق حالیہ حملوں کے دوران کم از کم ایک ایرانی بیلسٹک میزائل جس میں کلسٹر بم لگے تھے وسطی اسرائیل میں گرا۔ اطلاعات کے مطابق میزائل کا جنگی حصہ زمین سے تقریبا چار میل یعنی قریب سات کلو میٹر کی بلندی پر پھٹا اور تقریبا 20 چھوٹے بم چھوڑے۔ یہ بم تقریبا پانچ میل یعنی قریب آٹھ کلو میٹر کے دائرے میں پھیل گئے۔ ان میں سے ایک بم تل ابیب کے جنوب میں واقع ازور نامی قصبے میں ایک گھر پر گرا۔ اس سے عمارت کو نقصان پہنچا لیکن کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ تاہم دوسرے علاقوں میں ہونے والے حملوں میں لوگ زخمی ہوئے۔ تل ابیب کے قریب گرنے والے ایک کلسٹر میزائل سے کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے۔
28 فروری سے اب تک ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ افراد مختلف درجوں میں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بغیر پھٹے چھوٹے بموں کے خطرے کے بارے میں عوام کے لیے ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے کہا کہ ایران نے ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ شہری نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے الفاظ میں یہ دہشت گرد حکومت شہریوں کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے اور وسیع تباہی کے لیے بڑے علاقے میں پھیلنے والے ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
حملوں کے انداز میں تبدیلی
ایران کی میزائل کارروائی پورے ہفتے جاری رہی تاہم حملوں کی تعداد میں اتار چڑھا دیکھا گیا۔ 3 مارچ کو ایران نے کم از کم چھ میزائل حملوں کی بوچھاڑ کی۔ اس سے ایک دن پہلے بھی اتنی ہی تعداد میں حملے ہوئے تھے۔ یہ تعداد 28 فروری کے مقابلے میں کافی کم ہے جب ایک ہی دن میں کم از کم 20 میزائل حملوں کی بوچھاڑ درج کی گئی تھی۔ اگرچہ حملوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن کلسٹر جنگی حصے کے استعمال سے ایک نئی مشکل پیدا ہو گئی ہے۔ یہ ہتھیار شہری علاقوں میں کئی چھوٹے دھماکے پھیلاتے ہیں جس سے انہیں روکنا اور نقصان کو محدود کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ دفاعی حکام کا ماننا ہے کہ ہفتہ سے اب تک ایران کم از کم پانچ کلسٹر میزائل اسرائیل کے گنجان آبادی والے علاقوں کی طرف داغ چکا ہے۔
کلسٹر میزائل کیسے کام کرتا ہے
عام بیلسٹک میزائل میں ایک بڑا جنگی حصہ ہوتا ہے جس کا وزن 500 سے 1000 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔ لیکن کلسٹر جنگی حصہ مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔ میزائل فضا میں کھلتا ہے اور کئی چھوٹے بم گراتا ہے۔ ہر چھوٹا بم تقریبا سات کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد رکھتا ہے جو حماس یا حزب اللہ جیسے گروہوں کی جانب سے استعمال ہونے والے چھوٹے راکٹ کی طاقت کے برابر ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ہر دھماکہ چھوٹا ہوتا ہے لیکن بڑے علاقے میں پھیلنے کی وجہ سے مجموعی نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر میزائل کو فضا میں ہی مار گرایا جائے تو اس کے چھوٹے بم بے ترتیب انداز میں نیچے گر سکتے ہیں۔ کچھ فوراً پھٹ جاتے ہیں جبکہ کچھ بغیر پھٹے زمین پر پڑے رہ جاتے ہیں۔ یہ بعد میں چھیڑ چھاڑ ہونے پر پھٹ سکتے ہیں اور شہریوں یا امدادی عملے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ کلسٹر ہتھیاروں کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ بڑی تعداد میں چھوٹے بم زمین پر نہیں پھٹتے اور برسوں تک بارودی سرنگوں کی طرح فعال رہ سکتے ہیں۔
پہلے بھی استعمال ہو چکا ہے 
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے پچھلے سال جون میں دونوں ملکوں کے درمیان 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ میں پہلی بار کلسٹر میزائلوں کا استعمال کیا تھا۔ اس دوران تین کلسٹر میزائل اسرائیل کی طرف داغے گئے تھے جو سات مختلف شہروں میں گرے تھے۔ موجودہ جنگ میں ان ہتھیاروں کا یہ دوسرا استعمال سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے پاس کم از کم تین قسم کے میزائل ہیں جو کلسٹر جنگی حصہ لے جا سکتے ہیں۔ ذوالفقار، قدر سیریز اور خرم شہر میزائل۔ خرم شہر کو ان میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ ایران کا دعوی ہے کہ اس کی مار کرنے کی صلاحیت تقریبا ًدو ہزار کلو میٹر ہے اور یہ 80 تک چھوٹے بم لے جا سکتا ہے۔
ایران کی کلسٹر ہتھیار بنانے کی صلاحیت
ایران عوامی طور پر کلسٹر بموں کی تیاری پر بات نہیں کرتا۔ لیکن اشارے ملتے ہیں کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور راکٹوں دونوں کے لیے ایسے ہتھیار بناتا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں بننے والا قدر ایس نامی میزائل کلسٹر جنگی حصے کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے اور اس کی مار کرنے کی حد تقریباً دو ہزار کلو میٹر ہے۔ 2015 میں ایران نے فتح نامی میزائل کا ایک ایسا نمونہ دکھایا تھا جس میں 30 چھوٹے بم لگے تھے اور ہر ایک کا وزن تقریبا 20 پاؤنڈ تھا۔
کچھ تجزیوں کے مطابق قیام سیریز کا میزائل جو سوویت دور کے سکڈ ڈیزائن پر مبنی ہے یا بڑا خرم شہر میزائل بھی کلسٹر بم لے جا سکتا ہے۔ ایران 122 ملی میٹر، 240 ملی میٹر اور 333 ملی میٹر کے کئی طرح کے بغیر رہنمائی کے راکٹ بھی بناتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں کلسٹر بم لگائے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
غیر ملکی ہتھیار اور بین الاقوامی تنازع
کھلے ذرائع کی خفیہ معلوماتی رپورٹوں کے مطابق ایران کے پاس کچھ غیر ملکی کلسٹر نظام بھی موجود ہیں جیسے کے ایم جی یو ڈسپنسر، پروساب 250   (PROSAB-250 ) اور برطانیہ میں بنائے گئے بی ایل 755 کلسٹر بم۔ ایران نے کبھی عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ اس کے ذخیرے میں کتنے اور کس قسم کے کلسٹر ہتھیار موجود ہیں۔
کلسٹر ہتھیاروں کے معاملے پر دنیا بھر میں تنازع پایا جاتا ہے۔ 2008 میں 100 سے زیادہ ممالک نے کلسٹر ہتھیاروں سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کیے جس میں ایسے ہتھیاروں کے استعمال، پیداوار اور ذخیرہ کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اب تک 111 ممالک اور 12 دیگر ادارے اس معاہدے میں شامل ہو چکے ہیں۔ لیکن نہ اسرائیل اور نہ ہی ایران نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ امریکہ بھی اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
یہ معاملہ 2023 میں ایک بار پھر بحث میں آیا تھا جب امریکہ نے روس کے خلاف استعمال کے لیے یوکرین کو کلسٹر ہتھیار فراہم کیے تھے۔ یوکرین نے بھی الزام لگایا تھا کہ روس نے جنگ کے دوران کلسٹر ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
 



Comments


Scroll to Top