Latest News

عالمی تیل سپلائی پر خطرہ : ایران کا ٹرمپ کو چیلنج- آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو محفوظ گزار کر دکھائیں

عالمی تیل سپلائی پر خطرہ : ایران کا ٹرمپ کو چیلنج- آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو محفوظ گزار کر دکھائیں

انٹرنیشنل ڈیسک:  مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو براہ راست فوجی وارننگ دی ہے ۔ ایران نے دنیا کے سب سے اہم تیل  کے راستے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو للکارا ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے چیلنج دیا ہے کہ اگر امریکہ میں ہمت ہے تو وہ اس راستے سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو تحفظ  دے کر دکھائے۔
ایران کا نیا طریقہ ، راستہ بند نہیں مگر داخلہ ممنوع
ایران کے ایک اعلیٰ  فوجی افسر نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری طور پر آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا ہے مگر اب قواعد بدل گئے ہیں۔ ایران کے مطابق اسرائیل اور امریکہ سے وابستہ کسی بھی جہاز کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے جہازوں کو ایرانی فوج روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان نے براہ راست صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اپنے جنگی جہازوں کی طاقت پر یہاں سے تیل بردار جہازوں کو محفوظ گزار کر دکھائیں۔
امریکہ کی جوابی تیاری
ایران کی اس جارحانہ دھمکی کے بعد امریکہ بھی چوکس ہو گیا ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عالمی تیل رسد کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور جلد ہی اس مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کے بغیر دنیا کیوں رک جائے گی
آبنائے ہرمز دنیا کا وہ تنگ سمندری راستہ ہے جس پر پوری دنیا کی معیشت کا دارومدار ہے۔ اسے عالمی تیل تجارت کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ دنیا کا تقریبا 20  فیصد خام تیل اور 25  فیصد قدرتی گیس اسی 39 کلومیٹر چوڑے راستے سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور خود ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا حصہ اسی راستے پر منحصر ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ راستہ ایران کے ساحل کے بہت قریب ہے۔ یہاں ایران نے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل، مہلک ڈرون اور تیز رفتار چھوٹی کشتیاں تعینات کر رکھی ہیں جو کسی بھی بڑے جہاز کو لمحوں میں نشانہ بنا سکتی ہیں۔
عالمی رسد کے نظام پر بحران
کشیدگی کے باعث اس وقت اس علاقے میں جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رک گئی ہے۔ سینکڑوں جہاز سمندر کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں جس سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران اسے نہ صرف اپنی معاشی زندگی کی اہم راہ سمجھتا ہے بلکہ امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک حکمت عملی کے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top