National News

خونی تشدد کے بعد بھی سخت ایران : عالم دین نے مظاہرین کے لئے پھانسی کا مطالبہ کیا، امریکہ کو کھلی دھمکی

خونی تشدد کے بعد بھی سخت ایران : عالم دین نے مظاہرین کے لئے پھانسی کا مطالبہ کیا، امریکہ کو کھلی دھمکی

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج اور مظاہرین پر خونی کارروائی کے بعد اگرچہ حالات بے چین خاموشی کی طرف لوٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ میں اقتدار کے ایوانوں کے اندر پھیلا ہوا غصہ اب بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک سینئر بنیاد پرست  عالمِ دین نے تحویل میں لیے گئے مظاہرین کے لیے جمعہ کے روز سزائے موت کا مطالبہ کیا اور براہِ راست امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دھمکی دی۔ تاہم، ٹرمپ نے نسبتاً نرم مؤقف اپناتے ہوئے ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے تحویل میں لیے گئے سینکڑوں مظاہرین کو پھانسی نہیں دی۔ اسے اس بات کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ سکتی ہے۔
ایران کی خراب معیشت کے خلاف 28  دسمبر کو شروع ہونے والے احتجاج آہستہ آہستہ ملک کی مذہبی قیادت کو چیلنج کرنے لگے۔ مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کی خبروں کے درمیان فی الحال تہران میں احتجاج تھم گئے ہیں۔ تاہم، انٹرنیٹ سروس اب بھی بند ہے۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق، ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار نوے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایران کی حکومت نے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔
اس دوران بنیاد پرست ( کٹر پنتھی)  عالمِ دین آیت اللہ احمد خاتمی نے نماز کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو اپنے خطاب میں نعرے لگانے پر اکسایا، جن میں سے ایک نعرہ یہ تھا کہ مسلح منافقین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ ایران کے سرکاری ریڈیو نے اس خطاب کو نشر کیا۔ خاتمی نے مظاہرین کو اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے غلام اور ٹرمپ کے سپاہی قرار دیا۔ دوسری جانب، ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے امریکہ سے مداخلت کے وعدے کو پورا کرنے کی اپیل کی اور ایرانی عوام سے جدوجہد جاری رکھنے کی درخواست کی۔
 



Comments


Scroll to Top