Latest News

ایران میں خونریز کارروائی جاری : سڑکوں پر لاشیں اور پارلیمان میں دھمکیاں، 544 مظاہرین کی ہلاکت پر دنیا خاموش

ایران میں خونریز کارروائی جاری : سڑکوں پر لاشیں اور پارلیمان میں دھمکیاں، 544 مظاہرین کی ہلاکت پر دنیا خاموش

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں ملک گیر مظاہروں کے دوران کی گئی کارروائی میں کم از کم 544 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ دعوی انسانی حقوق کے کارکنوں نے کیا ہے۔ ادھر تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ مظاہرین کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال کرتا ہے تو امریکی فوج اور اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکہ میں قائم  'ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی 'نے اتوار کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے دوران 10,600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ ایجنسی حالیہ برسوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے دوران درست معلومات فراہم کرنے کے لیے جانی جاتی رہی ہے اور ایران میں موجود اپنے حامیوں کے ذریعے اطلاعات کی تصدیق کرتی ہے۔
ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 496 مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے 48 اہلکار شامل تھے۔ ایران میں انٹرنیٹ سروسز کی بندہونے اور فون لائنیں کاٹ دیے جانے کے باعث بیرونِ ملک سے ان مظاہروں کی صورت حال کا اندازہ لگانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ ایرانی حکومت نے اب تک مجموعی جانی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اطلاعات پر پابندی ایران کی سکیورٹی سروسز کے سخت گیر عناصر کو مزید پرتشدد کارروائیاں کرنے کا حوصلہ دے رہی ہے۔ ہفتہ کی رات سے اتوار کی صبح تک دارالحکومت تہران اور ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر میں مظاہرین سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے رہے۔
آن لائن ویڈیوز میں اتوار کی رات سے پیر تک مظاہروں کے جاری رہنے کے مناظر دکھائی دیے۔ امریکی صدر کے سرکاری رہائش گاہ اور دفتر وائٹ ہاؤس کی اندرونی مشاورت سے واقف دو افراد نے بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں سائبر حملے اور امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے براہِ راست فوجی کارروائی شامل ہے۔ ان افراد نے عوامی طور پر تبصرہ کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔ ٹرمپ نے اتوار کی رات صحافیوں سے کہا، فوج اس پر غور کر رہی ہے اور ہم انتہائی سخت آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکیوں پر انہوں نے کہا، اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم انہیں ایسے درجے پر جواب دیں گے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ امریکی فوج اور اسرائیل پر حملے کی دھمکی پارلیمان میں خطاب کے دوران ایران کے سخت گیر رہنما محمد باقر قالیباف نے دی۔ انہوں نے اسرائیل کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے اسے قابض علاقہ قرار دیا۔ قالیباف نے کہا، ایران پر حملے کی صورت میں قابض علاقہ اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی مراکز، ٹھکانے اور جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔ ہم خود کو صرف کارروائی کے بعد ردِعمل تک محدود نہیں سمجھتے اور کسی بھی خطرے کے ٹھوس اشارے کی بنیاد پر کارروائی کریں گے۔ اس کے بعد ارکانِ پارلیمان نے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔
 



Comments


Scroll to Top