انٹرنیشنل ڈیسک : ایران میں جاری شدید احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ ملک بھر میں بھڑک اٹھنے والے مظاہروں اور سکیورٹی کارروائی کے دوران قریب دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عام مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار دونوں شامل ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایرانی حکام نے اتنی بڑی تعداد میں اموات کو سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ، مہنگائی، بے روزگاری اور خراب معاشی حالات کے باعث شروع ہوئے۔ حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ اسے گزشتہ کم از کم تین برسوں میں حکومت کے لیے سب سے بڑا اندرونی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو میں عہدیدار نے اموات کا ذمہ دارمبینہ طور پر دہشت گردوں کو ٹھہرایا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے عام شہری تھے اور کتنے سکیورٹی اہلکار۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں بے گناہ مظاہرین مارے گئے ہیں اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران کے مذہبی نظام نے احتجاجی مظاہروں کے معاملے میں دوہری پالیسی اختیار کی ہے۔ ایک طرف معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب سخت سکیورٹی کارروائی، گولیاں، گرفتاریاں اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کیا گیا۔
حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث ملک سے باہر معلومات پہنچانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں رات کے وقت مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں، فائرنگ، جلتی ہوئی گاڑیاں اور عمارتیں دیکھی گئی ہیں۔ اس دوران ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر احتجاج بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم اس کے ٹھوس شواہد منظر عام پر نہیں لائے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی دباؤ، معاشی پابندیاں اور اندرونی بے چینی مل کر ایرانی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج بن چکی ہیں۔