National News

برٹش کولمبیا میں گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کی روایت ختم

برٹش کولمبیا میں گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کی روایت ختم

وینکوور :کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں پچھلے 70 سے زائد عرصے سے چل رہی گھڑیوں کو ہر سال بہار اور خزاں کے موسم میں ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کی روایت اب ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس اتوار کے بعد یہ روایت تاریخ بن جائے گی اور صوبہ سال بھر کے لیے ایک ہی وقت کانظام اپنائے گا۔صوبے کے بڑے حصے میں دہائیوں سے لوگ دن کی زیادہ روشنی کے فائدے کے لیے بہار میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرتے اور خزاں میں ایک گھنٹہ پیچھے کرتے آئے تھے۔ لیکن اب حکومت نے یہ دوہرا بدلاو¿ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جانکاری کے مطابق اس سلسلے میں 1993 میں صوبائی حکومت کی طرف سے کروائی گئی ایک رائے شماری کے مطابق زیادہ تر لوگوں نے سال بھر ایک ہی وقت رکھنے کے حق میں رائے دی تھی۔ کئی تجارتی اداروں اور عام شہریوں کا ماننا تھا کہ بار بار وقت بدلنے سے روزمرہ کے معمولات، صحت اور کاروبار پر اثر پڑتا ہے۔وقت بدلاو کی یہ روایت دوسری عالمی جنگ کے دوران اور اس کے بعد شمالی امریکہ کے کئی علاقوں میں شروع ہوئی تھی۔ مقصد بجلی کی بچت اور دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا تھا۔ حالانکہ وقت کے ساتھ اس کی ضرورت اور موثریت پر سوال اٹھتے رہے۔اب برٹش کولمبیا میں وقت بدلنے کی یہ پرانی روایت ختم کرکے سال بھر کے لیے مستقل وقت نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے لوگوں کو ہر چھے ماہ بعد گھڑیاں سیٹ کرنے کی پریشانی سے نجات ملے گی۔
                
 



Comments


Scroll to Top