واشنگٹن: امریکی صدر کی مسلسل دھمکیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کا ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہندوستان میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیار اسلام میں حرام ہیں۔ ایک انٹرویو میں ڈاکٹر الٰہی نے کہا کہ ایران جوہری توانائی کا استعمال صرف پرامن اور انسانی ضروریات، جیسے علاج، توانائی اور سماجی ترقی کے لیے کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے راستے پر نہیں گیا۔
ایٹم بم پر خامنہ ای کا فتوی
ڈاکٹر الٰہی کا بیان سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس فتوی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں ایٹم بم کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تیاری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر سخت بین الاقوامی نگرانی رکھی جاتی ہے اور اس پر کئی پابندیاں عائد ہیں، جبکہ بعض دیگر ممالک کے جوہری پروگراموں پر ایسی سختی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہی بین الاقوامی نظام کا دوہرا معیار ہے۔ ڈاکٹر الٰہی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ایٹم بم تیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔
ہندوستان - ایران کے پرانے تعلقات کا ذکر
انٹرویو کے دوران ڈاکٹر الٰہی نے ہندوستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں، یعنی اسلام کے ظہور سے پہلے کے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دور میں بھی ایران میں ہندوستان کی فلسفیانہ کتابوں کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے چابہار منصوبے میں ہندوستان سے مثبت کردار کی امید ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعاون پر زور دیا۔