انٹر نیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے دوران ایران نے بنگلہ دیش کو بڑی راحت دی ہے۔ ایران نے تیل اور گیس سے بھرے اس کے 6جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے جہاں کئی دنوں سے یہ جہاز رکے ہوئے تھے۔ ان جہازوں میں قطر سے آنے والی پانچ مائع قدرتی گیس کی کھیپیں اور سعودی عرب سے خام تیل لے جانے والا ایک جہاز شامل ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً پانچ لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس اور قریب 79000 ٹن خام تیل ان جہازوں میں لدا ہوا ہے۔
اگرچہ ایران نے یہ راحت دی ہے لیکن ساتھ ہی اپنی ناراضی بھی ظاہر کی ہے۔ ڈھاکہ میں ایران کے سفیر جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ بنگلہ دیش نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر واضح مذمت نہیں کی جس سے ایران مطمئن نہیں ہے۔ دراصل جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو چکی ہے جس سے عالمی تیل سپلائی پر بڑا اثر پڑا ہے۔ یہی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی صورت حال کافی سنگین ہو چکی ہے کیونکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
ملک میں پیٹرولیم ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ ایک ماہ سے بھی کم کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ صورت حال کو سنبھالنے کے لیے بنگلہ دیش نے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں جامعات بند کرنا اور توانائی بچانے کے طریقے شامل ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو پریشانی ہو اور وہ ایندھن کی فراہمی کو معمول پر رکھنے میں مدد جاری رکھے گا۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے یقیناً راحت ہے لیکن ساتھ ہی ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے خلاف عالمی مو¿قف کے معاملے میں محتاط اور حساس ہے۔