انٹر نیشنل ڈیسک: فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ روزانہ اپنے بیان تبدیل کر رہے ہیں جس سے عالمی سطح پر الجھن اور بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔ میکرون نے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی کے خیال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم سمندری راستے کو طاقت کے ذریعے آزاد کرانے کی تجویز عملی نہیں اور اس سے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کسی کارروائی میں طویل وقت لگے گا اور جہازوں کو ایران کے انقلابی محافظ دستوں اور بیلسٹک میزائلوں سے خطرہ لاحق رہے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت جنگ کے باعث متاثر ہو چکی ہے جس سے عالمی تیل کی رسد اور تجارت پر اثر پڑ رہا ہے۔ میکرون نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے متضاد اشارے نیٹو جیسے اتحاد کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اپنے موقف میں واضح نہ رہا تو اتحادیوں کا اعتماد کم ہوتا جائے گا۔
ادھر ٹرمپ نے بھی نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے اسے کاغذی شیر قرار دیا اور کہا کہ بڑے جنگی حالات میں اتحادی ساتھ نہیں دیں گے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارہ دیا کہ جنگ کے بعد امریکہ نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ایران جنگ اب صرف فوجی تصادم نہیں رہی بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بڑھتے اختلافات کی وجہ بھی بنتی جا رہی ہے۔