National News

ہندوستان - امریکہ تعلقات مشکل دور سے گزر رہے ہیں، ہر دن ایک نیا چیلنج ہے : کانگریس

ہندوستان - امریکہ تعلقات مشکل دور سے گزر رہے ہیں، ہر دن ایک نیا چیلنج ہے : کانگریس

نیشنل ڈیسک: کانگریس نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان  اور امریکہ کے تعلقات ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور ہر دن ایک نئی چیلنج سامنے آ رہی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بل کی حمایت کی ہے، جس کے تحت روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر پانچ سو فیصد تک محصول عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کانگریس کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے ایکس پر کہا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم ایک ایسے بل کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کے تحت روس کے ساتھ  ہندوستان  کی تجارت اور دیگر تعلقات کے سبب اس پر وسیع پیمانے پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
اس سے پہلے سینیٹر برنی مورینو نے ایک بل پیش کیا تھا جس کے تحت آؤٹ سورسنگ کے لیے ادائیگی کرنے والی امریکی کمپنیوں پر25  فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ کانگریس کے رہنما نے کہا کہ ہندوستان  کے لیے غیر آرام دہ صورت حال پیدا کرتے ہوئے صدر ٹرمپ مسلسل پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔ رمیش نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات میں یقینی طور پر ایک نئی غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے دیے جانے والے بیانات کے باوجود ہر دن ایک نئی چیلنج سامنے آ رہی ہے۔
ٹرمپ نے اس بل کی حمایت کی ہے جس کے تحت روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500  فیصد تک محصول عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس قدم سے وائٹ ہاؤس کو چین اور ہندوستان جیسے ممالک پر ماسکو سے سستا تیل خریدنا بند کرنے کے لیے دباؤ بنانے کی وسیع گنجائش مل جائے گی۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ یہ بل چین، ہندوستان اور برازیل جیسے ممالک کے خلاف وائٹ ہاؤس کو نہایت مضبوط دباؤ ڈالنے کا ذریعہ فراہم کرے گا، تاکہ انہیں روس سے سستا تیل خریدنا بند کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ گراہم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آج صدر ٹرمپ کے ساتھ مختلف امور پر نہایت بامعنی ملاقات کے بعد انہوں نے اس دو جماعتی روس پابندی بل کو منظوری دے دی ہے، جس پر میں کئی مہینوں سے سینیٹر رچرڈ بلومینتھل اور دیگر کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ درست وقت پر آیا ہے، کیونکہ یوکرین امن کے لیے رعایتیں دے رہا ہے، جبکہ پوتن صرف بیان بازی کر رہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کا قتل جاری ہے۔ یہ بل صدر ٹرمپ کو ان ممالک کو سزا دینے کی اجازت دے گا جو سستا روسی تیل خرید کر پوتن کی جنگی مشین کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بل کو مضبوط دو جماعتی حمایت حاصل ہوگی اور اسے ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے کے آغاز میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ہندوستان پر 50  فیصد تک محصول عائد کیا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ محصول والے ممالک میں شامل ہے۔ اس میں روس سے توانائی کی خرید پر عائد 25 فیصد محصول بھی شامل ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں گراہم نے کہا تھا کہ امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ونے کواترا نے انہیں نئی دہلی کی جانب سے روسی تیل کی خرید میں کمی کی اطلاع دی ہے اور ان سے صدر ٹرمپ سے ہندوستان پر عائد محصولات میں نرمی کی درخواست کرنے کو کہا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top