نئی دہلی: مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) میں چھڑی خوفناک جنگ کا اثر اب بھارت کی تیل کی ضروریات پر نظر آنے لگا ہے۔ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے تیل کے بحران کے درمیان خبر ہے کہ بھارت اب روس سے مہنگی قیمت پر خام تیل خریدنے جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ جہاں پہلے روس سے تیل خریدنے پر بھاری چھوٹ ملتی تھی، اب وہ چھوٹ ختم ہو گئی ہے اور الٹا بھارت کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق بھارت کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل کا ذخیرہ صرف 25 دنوں کا باقی رہ گیا ہے۔ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے آبنائے ہرمز کے راستے منگواتا ہے، جو جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھارتی ریفائنریوں نے روس سے فوری طور پر تیل منگوانے کے لیے بات چیت تیز کر دی ہے۔
تازہ رپورٹوں کے مطابق تاجر روسی یورال تیل کو برینٹ کروڈ آئل کے مقابلے میں 4 سے 5 ڈالر فی بیرل کے پریمیم یعنی زیادہ قیمت پر بھارت کو فروخت کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ فروری کے مہینے میں بھارت کو یہی تیل 13 ڈالر فی بیرل کی چھوٹ پر مل رہا تھا۔ اب روسی تیل کی دستیابی قیمت سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
اس بحران کے درمیان امریکی وزارت خزانہ نے بھارت کو 30 دن کی عارضی چھوٹ دی ہے۔ اس چھوٹ کے تحت بھارتی ریفائنریاں سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل کو خرید سکیں گی۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ راحت صرف محدود وقت کے لیے ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی جاری رہ سکے۔ بھارت کی سرکاری ریفائنریاں آئی او سی، بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل اب تک تقریباً 2 کروڑ بیرل روسی تیل خرید چکی ہیں۔