انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران نے صاف کہا ہے کہ جب تک اس کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا بدلہ نہیں لیا جاتا تب تک دشمنوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ یہ بیان ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جس کی معلومات ایران کے سرکاری میڈیا نے دی۔
کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ خامنہ ای کے قتل کے ذمہ دار لوگوں کو سزا ملنے تک جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایران اپنے رہنما کی موت کو ہلکے میں نہیں لے گا اور اس کے لیے ذمہ دار طاقتوں سے بدلہ ضرور لیا جائے گا۔
خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کا سخت موقف۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران نے کافی سخت مو¿قف اختیار کر لیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ملک کے دشمنوں کے خلاف لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خامنہ ای کی موت کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔ حکومت سے وابستہ حکام نے کہا کہ یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ قومی عزت اور سلامتی کا معاملہ ہے اس لیے ایران پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔
امریکی ٹھکانوں پر حملے کا ملے گا جواب۔
ایرانی صدر کے دفتر کے نائب سربراہ نے بھی اس مسئلے پر ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی طرح کے دباو کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں موجود امریکہ کے فوجی ٹھکانوں سے ایران پر حملہ کیا گیا تو ایران کی فوج اس کا سخت جواب دے گی۔ عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر پڑوسی ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا تو ایران ان ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی سے بڑھی تشویش۔
اس دوران امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پوسٹ کر کے ایران کو سخت وارننگ دی۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ایران کو ہارا ہوا ملک بتاتے ہوئے کہا کہ آج ایران پر بہت بڑا اور زبردست حملہ کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
مغربی ایشیا پر ٹکی دنیا کی نظر۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان کے بعد اب پوری دنیا کی نظریں مغربی ایشیا پر ٹکی ہوئی ہیں۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران کے خلاف کوئی بڑا فوجی آپریشن شروع کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس کا اثر پورے مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
خطے میں بڑا تصادم بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ کے سخت موقف اور ایران کی بدلے کی قسم کے بعد خطے میں حالات اور زیادہ سنگین ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق پیچھے نہیں ہٹتے تو یہ ٹکراو ایک بڑی علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے جس کا اثر کئی ممالک پر پڑ سکتا ہے۔