انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناو کے درمیان ایران اور امریکہ کے درمیان بیانات بازی اور تیز ہو گئی ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتے کو الزام لگایا کہ امریکہ نے ایران کے قشم جزیرے پر واقع ایک میٹھے پانی کا ڈیسالینیشن (سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والا) پلانٹ پر حملہ کیا ہے۔
عراقچی نے اس حملے کو کھلا اور مایوس کن جرم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
30 گاوں کی پانی کی سپلائی متاثر
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ قشم جزیرے پر بنے اس پلانٹ پر حملے کے سبب آس پاس کے تقریباً 30 گاو¿ں کی پانی کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر حملہ کرنا انتہائی خطرناک قدم ہے اور اس سے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ عراقچی کے مطابق اس طرح کی کارروائی کی شروعات امریکہ نے کی ہے، نہ کہ ایران نے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران نے پڑوسیوں سے معافی مانگی
دوسری طرف امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی ہے اور اب ان پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سبب ایران دباو میں آ گیا ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کے خلاف جارحانہ رویہ چھوڑنے کی ضمانت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران پہلے مشرقِ وسطیٰ میں دبدبہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اب وہ ہار چکا ہے۔
ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا دبدبہ دار نہیں
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ایران مشرقِ وسطیٰ کا "بلی" (دبدبہ دار) ملک نہیں رہا، بلکہ اب وہ "مشرقِ وسطیٰ کا ہارنے والا ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک ایران مکمل طور پر نہیں جھکتا یا اس کی حالت کمزور نہیں ہوتی، تب تک یہ صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔ٹرمپ نے وارننگ دی کہ ایران پر مزید سخت حملے کیے جا سکتے ہیں، اور ایسے کئی علاقے اور گروہ بھی ہدف بن سکتے ہیں جنہیں اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔
میامی کانفرنس میں بھی ایران کا ذکر
اس دوران ٹرمپ نے میامی میں منعقدہ "شیلڈ آف دی امریکہز" سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماوں کا استقبال کرتے ہوئے بھی ایران کا مسئلہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے پہلے دورِ حکومت میں انہوں نے امریکی فوج کو مضبوط بنایا تھا اور اب اسی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف کارروائی میں امریکہ کو اچھے نتائج مل رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران پچھلے کئی دہائیوں سے خطے میں تشدد اور تصادم کے لیے ذمہ دار رہا ہے اور اب اس کے خلاف سخت کارروائی ضروری تھی۔
خطے میں بڑھتا ہوا تناو
ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کے الزامات اور ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تناو اور بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حالات اسی طرح خراب ہوتے رہے تو اس کا اثر پورے خطے کی سیکیورٹی اور عالمی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔