انٹرنیشنل ڈیسک: معزول وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکہ کی ایک عدالت میں خود کو بے قصور بتایا اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ پیر کے روز نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیش ہوتے ہوئے مادورو نے جج سے کہا، میں بے قصور ہوں۔ میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک شریف انسان ہوں اور اپنے ملک کا صدر ہوں۔
یہ مادورو کی امریکی عدالت میں پہلی پیشی تھی۔ انہی نارکو ٹیررازم (منشیات دہشت گردی) کے الزامات کی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں گرفتار کر کے امریکہ لانے کو درست قرار دیا ہے۔
جیل کی وردی میں عدالت پہنچے مادورو اور ان کی اہلیہ
پیر کے روز مادورو نیلے رنگ کی جیل یونیفارم پہن کر عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز بھی موجود تھیں۔ دونوں کو دوپہر قریب بارہ بجے عدالت میں لایا گیا۔ یہ سماعت مختصر تھی لیکن قانونی طور پر ضروری تھی اور اسے ایک طویل قانونی جدوجہد کی شروعات سمجھا جا رہا ہے۔ چونکہ عدالتی کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اس لیے مادورو اور ان کی اہلیہ نے ہیڈفون پہن کر ہسپانوی ترجمہ سنا۔
سخت سکیورٹی میں جیل سے عدالت تک کا سفر
پیر کی صبح مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلین کی جیل سے سخت سکیورٹی میں مین ہیٹن کی عدالت لے جایا گیا۔ صبح قریب 7 بج کر 15 منٹ پر جیل سے ایک موٹر کیڈ روانہ ہوا۔ انہیں قریبی ایک کھیل کے میدان تک لے جایا گیا۔ وہاں سے مادورو آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے اور وہ کچھ لنگڑاتے ہوئے نظر آئے۔ ہیلی کاپٹر نیویارک ہاربر عبور کر کے مین ہیٹن کے ہیلی پورٹ پر اترا اور وہاں سے انہیں بکتر بند گاڑی میں عدالت کے احاطے تک لے جایا گیا۔
چند ہی منٹوں میں یہ قافلہ عدالت کے گیراج میں پہنچ گیا۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں قریب ہی ایک عدالت میں ڈونالڈ ٹرمپ کو 2024 میں کاروباری ریکارڈ سے متعلق دھوکہ دہی کے مقدمے میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔
عدالت کے باہر مظاہرہ، پولیس تعینات
عدالت کے باہر امریکی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی ایک چھوٹی مگر بڑھتی ہوئی بھیڑ موجود تھی۔ وہیں قریب ایک درجن افراد امریکی مداخلت کی حمایت میں بھی کھڑے تھے۔ ایک موقع پر حامی اور مخالف آمنے سامنے آ گئے اور یہاں تک کہ ایک شخص نے احتجاج کرنے والوں سے وینزویلا کا پرچم چھین لیا۔ پولیس نے دونوں فریقوں کو الگ رکھا۔
امریکی قانون کے تحت مادورو کو ملیں گے مساوی حقوق
امریکی قانونی نظام کے تحت ایک ملزم کے طور پر مادورو کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو کسی عام شہری کو ملتے ہیں۔ اس میں نیویارک کے عام شہریوں پر مشتمل جیوری کے ذریعے مقدمہ اور منصفانہ سماعت کا حق شامل ہے۔ تاہم مادورو کا معاملہ اس لیے مختلف ہے کہ وہ کسی ملک کے سابق صدر ہیں جو امریکی عدالتوں میں ایک نہایت کم یاب صورت حال ہے۔
گرفتاری کو غیر قانونی بتانے کی تیاری میں مادورو کے وکیل
مادورو کے وکیل جلد ہی ان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والے ہیں۔ ان کا مؤقف ہوگا کہ مادورو ایک خود مختار ملک کے سربراہ تھے اس لیے انہیں امریکی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اسی طرح کی دلیل پنامہ کے تاناشاہ مانوئل نوریگا نے 1990 میں دی تھی جب امریکہ نے فوجی کارروائی میں انہیں گرفتار کیا تھا۔ لیکن اس وقت امریکی عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ مادورو کو وینزویلا کا جائز صدر نہیں مانتا خاص طور پر 2024کے متنازع انتخابات کے بعد۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کا مؤقف
وینزویلا کی نئی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ سے مادورو کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مادورو طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ میں کسی بھی کردار سے انکار کرتے آئے ہیں۔ تاہم اتوار کی رات دیر گئے روڈریگز نے سوشل میڈیا پر قدرے نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعاون اور امریکہ کے ساتھ باعزت تعلقات چاہتی ہیں۔
تیل اور معدنی وسائل کے حوالے سے الزامات
مادورو اور ان کے حامیوں کا کہنا رہا ہے کہ امریکہ کی دشمنی کی اصل وجہ وینزویلا کے وسیع تیل اور معدنی ذخائر ہیں۔ ہفتے کے روز امریکی فوج نے ایک خصوصی فوجی کارروائی میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک فوجی اڈے میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فی الحال وینزویلا کو عارضی طور پر چلائے گا لیکن وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ روزمرہ کی حکمرانی نہیں کرے گا بلکہ صرف پہلے سے نافذ تیل قرنطینہ کو لاگو کرے گا۔
ٹرمپ کے مزید سخت بیانات
اتوار کو ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ مغربی نصف کرہ میں امریکی اثر و رسوخ مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو 'بیمار آدمی' کہا۔ ان پر امریکہ میں کوکین بھیجنے کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ زیادہ دن نہیں چلے گا۔ ٹرمپ نے ڈیلسی روڈریگز سے مکمل رسائی دینے کا مطالبہ کیا ورنہ نتائج بھگتنے کی وارننگ دی۔
تیل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار
ٹرمپ کا ماننا ہے کہ مادورو کو ہٹانے سے وینزویلا سے زیادہ تیل بازار میں آئے گا۔ تاہم اس کے باوجود پیر کی صبح تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زیادہ بڑھ کر قریب 58 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برسوں کی نظر اندازگی کے بعد تیل کی پیداوار فوری طور پر بڑھانا مشکل ہے۔ سرمایہ کاری انتظامیہ اور نگرانی کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔
سنگین الزامات، عمر قید تک سزا ممکن
ہفتے کے روز منظر عام پر آنے والی 25صفحات کی فرد جرم میں الزام ہے کہ مادورو اور ان کے ساتھیوں نے منشیات کارٹیلز کے ساتھ مل کر ہزاروں ٹن کوکین امریکہ بھیجنے میں مدد کی۔ اگر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ اتوار تک یہ واضح نہیں تھا کہ مادورو نے کوئی امریکی وکیل مقرر کیا ہے یا نہیں۔
پہلے سے امریکی پابندیوں کی زد میں
مادورو اور ان کی اہلیہ برسوں سے امریکی پابندیوں کے تحت ہیں۔ اس کے باعث کوئی بھی امریکی شہری ان سے رقم وصول نہیں کر سکتا جب تک امریکی خزانہ محکمہ سے اجازت نہ ملے۔
ٹرین دے اراگوا (Tren de Aragua ) گینگ پر بھی تنازع
فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا کے حکام ٹرین دے اراگوا (Tren de Aragua ) گینگ کے ساتھ براہ راست جڑے تھے۔ لیکن اپریل میں جاری ہونے والی ایک امریکی خفیہ رپورٹ میں جس کی بنیاد 18 اداروں کی معلومات تھیں کہا گیا کہ وینزویلا حکومت اور اس گینگ کے درمیان کوئی براہ راست تال میل ثابت نہیں ہوا۔
کن -کن پر الزامات
اس مقدمے میں ملزمان میں نکولس مادورو ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز ان کا بیٹا جو اس وقت آزاد ہے وینزویلا کے وزیر داخلہ و انصاف ایک سابق وزیر داخلہ و انصاف اور ہیکٹر راسٹین فورڈ گوریرو فلوریز شامل ہیں جو ٹرین دے اراگوا(Tren de Aragua ) کا مبینہ سربراہ ہے اور مفرور ہے۔ الزام ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ نے اغوا تشدد اور قتل تک کے احکامات دیے خاص طور پر ان افراد کے خلاف جو منشیات کے کاروبار میں رقم کے مقروض تھے یا ان کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچاتے تھے۔
مادورو کی اہلیہ پر بھی سنگین الزامات
فرد جرم کے مطابق 2007 میں مادورو کی اہلیہ نے سینکڑوں ہزار ڈالر رشوت وصول کی تاکہ ایک بڑے منشیات اسمگلر کی وینزویلا کے قومی انسداد منشیات دفتر کے سربراہ سے ملاقات کرائی جا سکے۔ اس کے بعد ہر ماہ رشوت ملنے لگی جس میں سے کچھ رقم براہ راست مادورو کی اہلیہ تک پہنچتی تھی۔ یہ معاملہ محض ایک قانونی جدوجہد نہیں بلکہ امریکہ وینزویلا تعلقات تیل کی سیاست اور عالمی طاقت کے توازن سے جڑا ایک بڑا بین الاقوامی واقعہ بن چکا ہے۔