اسلام آباد: پاکستان کے ننکانہ صاحب میں سکھوں کے خلاف زہر اگلنے والے شخص عمران چشتی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے عمران چشتی ننکانہ صاحب میں رہنے والے سکھوں کو تشدد کی دھمکی دے رہا تھا ۔ ہندوستان نے اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے عمران حکومت کو پاکستان میں اقلیتوں پر حملے کرنے کی دھمکی دینے والے شخص کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے لئے کہا تھا۔

ہندوستان کا دباؤ کام آیا اور آخر پاک حکومت نے جھکتے ہوئے عمران کو گرفتار کرنے حکم دیا ۔ اس سے پہلے گرفتاری سے بچنے کے لئے چشتی نے گوردوارہ پر حملے کے لئے معافی مانگ لی تھی ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عمران چشتی نے ایک پر تشدد ہجوم کی قیادت کی اور ننکانہ صاحب گوردوارے کے پاس پہنچ گیا۔اس ہجوم نے پتھر بازی کی اور گوردوارے کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔اس دوران عمران چشتی نے مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ جلد ہی اس جگہ کا نام ننکانہ صاحب سے بدل کر غلامان مصطفی کر دیں گے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی سکھ اب ننکانہ میں نہیں رہے گا۔عمران چشتی احسان نام کے شخص کا بھائی ہے۔ احسان نے ہی مبینہ طور پر سکھ لڑکی جگجیت کور نام کی لڑکی کو اغوا کر لیا تھا۔جگجیت کور گوردوارے کے گرنتھی کی بیٹی تھی۔احسان پر جگجیت کور سے جبرا ًشادی کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کا الزام ہے۔بھارت کے علاوہ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس واقعہ پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا تھا ننکانہ صاحب کا واقعہ سنگین ہے اور اس کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔