پیرس: فرانس میں کسانوں نے اپنی کم آمدنی اور جنوبی امریکہ کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کی مخالفت میں منگل کو 350 ٹریکٹروں کے ساتھ پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ اس تجارتی معاہدے سے ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔ پولیس کی نگرانی میں ٹریکٹروں نے مصروف اوقات کے دوران چینپس- ایلیزی اور پیرس کی دیگر سڑکوں سے گزرتے ہوئے ٹریفک کو روک دیا اور پھر وہ دریائے سین عبور کر کے نیشنل اسمبلی تک پہنچے۔ فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں کسانوں کا غصہ کئی چیلنجوں کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے۔
CRISE AGRICOLE : "On ne bougera pas tant qu’on n’aura pas été reçus et entendus".
350 tracteurs de la FNSEA et des JA sont entrés dans Paris ce matin pour une manifestation devant l'Assemblée nationale, protestant notamment contre l'accord Mercosur.pic.twitter.com/8L1MBw2nld
— Infos Françaises (@InfosFrancaises) January 13, 2026
منگل کو ہونے والے احتجاج کی قیادت کرنے والی کسان یونینوں نے کہا کہ وہ فرانس کی غذائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ فرانس حکومت کی ترجمان موڈ بریگون نے منگل کو ٹی ایف 1 ٹیلی وژن پر کہا کہ حکومت کسانوں کی مدد کے لیے جلد ہی نئی اعلانات کرے گی۔ صدر ایمانوئیل میکرون اور ان کی حکومت یورپی یونین- مرکوسور تجارتی معاہدے کے مخالف ہیں، لیکن امید ہے کہ ہفتے کے روز پیراگوے میں اس پر دستخط ہو جائیں گے، کیونکہ اسے یورپی یونین کے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
🔴 ALERTE INFO | Près de 350 tracteurs commencent à arriver sur le périphérique à Paris avant de se rassembler devant l'Assemblée Nationale pour protester contre le Mercosur. 🚜👨🌾pic.twitter.com/tG3ebIhxjg
— SIRÈNES (@SirenesFR) January 13, 2026
مرکوسور جنوبی امریکی ممالک کی علاقائی تجارتی تنظیم ہے۔ یورپی ممالک کے کسان مرکوسور ممالک برازیل، ارجنٹینا، بولیویا، پیراگوے اور یوروگوئے کے ساتھ تجارتی معاہدے کی طویل عرصے سے مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بازار سستے درآمدی سامان سے بھر جائیں گے۔