Latest News

کووڈ ویکسین پر آمنے سامنے امریکہ اور جرمنی ! آر ایف کے جونیئر کے دعوے پر بھڑکا برلن ، امریکی وزیر صحت کو دکھایا آئینہ

کووڈ ویکسین پر آمنے سامنے امریکہ اور جرمنی ! آر ایف کے جونیئر کے دعوے پر بھڑکا برلن ، امریکی وزیر صحت کو دکھایا آئینہ

انٹرنیشنل ڈیسک: جرمنی کی حکومت نے امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی ( آر ایف کے ) جونیئر کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جن میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ جرمنی کووڈ- 19 وبا کے دوران ویکسین یا ماسک سے چھوٹ دینے والے  ڈاکٹروں اور مریضوں کے خلاف مقدمات چلا رہا ہے۔ جرمنی کی وزیرِ صحت نینا وارکن نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکی وزیر کے بیانات مکمل طور پر بے بنیاد، حقائق کے اعتبار سے غلط اور ناقابلِ قبول ہیں۔ 
دراصل آر ایف کے جونیئر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے جرمن وزیرِ صحت کو خط لکھ کر اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ جرمنی میں ہزاروں ڈاکٹروں اور ان کے مریضوں کو ویکسین یا ماسک سے  چھوٹ دینے  کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جرمن حکومت مریضوں کی آزادانہ طبی پسند کو محدود کر رہی ہے۔
تاہم وارکن نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے دوران جرمنی میں ڈاکٹروں پر کووڈ ویکسین لگانے کی کوئی لازمی شرط نہیں تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ڈاکٹر طبی، اخلاقی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر ویکسینیشن نہیں کرنا چاہتے تھے، ان کے خلاف نہ تو کوئی مقدمہ درج کیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی سزا دی گئی۔ جرمن وزیرِ صحت نے یہ بھی صاف کیا کہ فوجداری کارروائی صرف دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کے معاملات میں کی گئی، جیسے کہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ یا جعلی ماسک سے چھوٹ کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جرمنی میں مریضوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کون سا علاج یا طبی طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، اس کا فیصلہ خود کریں۔
اس تنازع میں جرمنی کے سابق وزیرِ صحت کارل لاوٹر باخ بھی شامل ہو گئے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر براہِ راست آر ایف کے جونیئر کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی وزیر کو اپنے ملک کے صحت سے متعلق مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے امریکہ میں کم اوسط عمر، علاج کے بے حد زیادہ اخراجات، منشیات کے باعث ہونے والی اموات اور پرتشدد جرائم کا حوالہ دیا۔ لاوٹر باخ نے یہ بھی کہا کہ جرمنی میں ڈاکٹروں کے معاملات حکومت نہیں بلکہ آزاد عدالتیں قانون کے مطابق دیکھتی ہیں۔ 
قابلِ ذکر ہے کہ کووڈ وبا کے دوران جرمنی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ویکسین لگوائی تھی، تاہم ایک چھوٹا طبقہ ویکسین مخالف بھی تھا، جن کے مظاہروں کو بعض اوقات انتہا پسند دائیں بازو کے گروہوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔
 



Comments


Scroll to Top