National News

ٹرمپ کے نئے نقشے سے دنیا میں بھونچال: کینیڈا، وینیزویلا اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ دکھایا ! فرانس کے صدر کی ذاتی چیٹ بھی کی لیک

ٹرمپ کے نئے نقشے سے دنیا میں بھونچال: کینیڈا، وینیزویلا اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ دکھایا ! فرانس کے صدر کی ذاتی چیٹ بھی کی لیک

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے، جس میں کینیڈا، وینیزویلا اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اس اقدام کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لحاظ سے انتہائی غیر معمولی اور متنازعہ سمجھا جا رہا ہے۔

 

ٹرمپ پہلے بھی کینیڈا کو امریکہ کا 51ویں ریاست کہ چکے ہیں۔ اب یہ نیا نقشہ کینیڈا کے موجودہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کے حالیہ چین دورے کے بعد جاری کیا گیا ہے، جسے ٹرمپ کی ناراضگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کارنی نے بیجنگ جا کر چین کے ساتھ تعلقات کو نیا رنگ دینے کی بات کی تھی۔ صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے کینیڈا پر بھاری محصولات عائد کیے تھے۔ اقتصادی دباو کا سامنا کرنے والے کینیڈا نے اس کے جواب میں نئے تجارتی شراکت دار تلاش کرنا شروع کیے، بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے اور تجارتی معاہدے پر بات چیت بھی اسی سلسلے کا حصہ مانی جا رہی ہے۔


نقشے میں وینیزویلا کو بھی امریکہ کا حصہ بتایا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکم پر اسی ماہ کے آغاز میں وینیزویلا پر عسکری کارروائی ہوئی تھی، جس میں صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ سب سے بڑا تنازع گرین لینڈ کے حوالے سے ہے۔ ٹرمپ مسلسل کہتے رہے ہیں کہ چین اور روس کے خطرے سے بچانے کے لیے گرین لینڈ کا امریکہ کے کنٹرول میں ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس نیم خودمختار ڈینش علاقے پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا ہے۔

 

اتنا ہی نہیں، ٹرمپ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کی ذاتی چیٹ کو بھی عوام کے سامنے لایا ہے، جس میں گرین لینڈ اور ایران پر بات کی گئی تھی۔ اسے سفارتی حدود کی کھلی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔ یورپی ممالک نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف یکجہتی ظاہر کی ہے۔ ڈنمارک اور برطانیہ نے صاف کہا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری پر فیصلہ صرف گرین لینڈ اور ڈنمارک کے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی مانگ نہیں مانی گئی تو برطانیہ سمیت ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر بھاری محصولات عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1 فروری سے 10% اور 1 جون سے 25% محصولات لاگو ہوں گے۔ این بی سی نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے صاف کہا، میں 100% محصولات عائد کروں گا۔
                
 



Comments


Scroll to Top