اسلام آباد: پاکستان میں تیل کی شدید قلت کے باعث حالات انتہائی نازک ہو گئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے کئی سخت اور بڑے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔
اسکولوں کی بندش اور آن لائن تعلیم
حکومت نے تیل کی کھپت کو کم کرنے کے لیے ملک کے تمام سکولوں کو آئندہ دو ہفتوں کے لیے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فوری طور پر تعلیم آن لائن کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں اور بسوں میں استعمال ہونے والے تیل کو بچایا جا سکے۔
سرکاری دفاتر کے لیے نئے قوانین
تیل بچانے کے لیے حکومت کے کام کرنے کے طریقے میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب سرکاری دفاتر میں ہفتے میں صرف چار دن کام ہوگا۔ وفاقی اداروں کے 50 فیصد ملازمین کو 'ورک فرام ہوم' (WFH) کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اہلکاروں کی تنخواہوں اور الاونسز میں کٹوتی کی جائے۔
معاشی دباو¿ کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کے فیول الاو¿نس میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی دو دن کی تنخواہ بھی کاٹی جائے گی جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔
حکومت کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کے صنعتوں اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر بہت برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔