Latest News

تائیوان کے بیان پر چین مشتعل ، جاپان کی 20 کمپنیوں پر لگائی پابندی، 20 کو رکھا نگرانی فہرست میں

تائیوان کے بیان پر چین مشتعل ، جاپان کی 20 کمپنیوں پر لگائی پابندی، 20 کو رکھا نگرانی فہرست میں

بزنس ڈیسک: امریکہ سے شروع ہونے والے ٹیرف اور پابندیوں کے ماحول کے درمیان اب ایشیا میں ایک نیا تجارتی تناؤ سامنے آ گیا ہے۔ جاپان کی وزیر اعظم کے تائیوان سے متعلق بیان کے بعد چین نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے چالیس جاپانی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ چین نے بیس کمپنیوں کو برآمدی کنٹرول فہرست میں اور بیس دیگر کو نگرانی کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے سفارتی تناؤ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
تنازع کی شروعات کیسے ہوئی
معاملہ اس وقت گرم ہوا جب جاپان کی وزیر اعظم سناے تاکائیچی کی تائیوان کے بارے میں کئے گئے  پرانے تبصرے پر چین نے سخت اعتراض کیا۔ تائیوان ایک خود مختار طور پر چلنے والا جزیرہ ہے جس پر چین اپنا دعوی کرتا ہے۔ چین نے الزام لگایا کہ تائیوان کے معاملے پر جاپان کا بیان اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے برابر ہے۔
کن کمپنیوں پر کارروائی ہوئی
چین کی وزارت تجارت کے مطابق برآمدی کنٹرول فہرست میں شامل بیس کمپنیوں کو چینی برآمد کنندگان اب  ' ڈبل یوز '  ( شہری اور فوجی دونوں مقاصد میں استعمال ہونے والی )  اشیاء نہیں بیچ سکیں گے۔
 نشانے پر آئیں بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں

  •  مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز (Mitsubishi Heavy Industries) اور اس کی ذیلی یونٹس۔
  • کاواساکی ہیوی انڈسٹریز (Kawasaki Heavy Industries) 
  •  فوجیتسو  (Fujitsu ) کے بعض شعبے ۔ 

 ان کمپنیوں کا تعلق جہاز سازی، ہوائی جہاز کے انجن، بحری مشینری اور تکنیکی آلات سے ہے۔
نگرانی کی فہرست میں کون شامل ہے
دوسری فہرست میں شامل بیس کمپنیوں کو چینی برآمد کنندگان سے سامان حاصل کرنے کے لیے خصوصی برآمدی لائسنس، خطرے کی جانچ کی رپورٹ اور یہ تحریری یقین دہانی دینا ہوگی کہ اشیا کا استعمال جاپان کی فوج کے ذریعے نہیں کیا جائے گا۔
اس فہرست میں ۔۔۔

  • سبارو کارپوریشن (Subaru Corporation)
  •  مٹسوبشی میٹیریلز کارپوریشن (Mitsubishi Materials Corporation)۔
  •  انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو (Institute of Science Tokyo) شامل ہیں۔ 

چین کا کیا کہنا ہے؟ 
چین کی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جاپان کی دوبارہ فوجی تیاری اور ممکنہ جوہری عزائم کو روکنے کے مقصد سے کیے گئے ہیں اور مکمل طور پر جائز ہیں۔ تاہم وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اقدامات محدود دائرے میں ہیں اور عام چین جاپان تجارت پر وسیع اثر نہیں ڈالیں گے۔
تعلقات پر ممکنہ اثر
ماہرین کا ماننا ہے کہ تائیوان کا معاملہ پہلے ہی علاقائی سیاست کا ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ ایسے میں یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ  بڑھا سکتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا الگ ہوا صوبہ سمجھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کی بات بھی کر چکا ہے۔ تائیوان کی خودمختاری کی حمایت میں کسی بھی غیر ملکی بیان پر چین عام طور پر سخت مؤ قف اختیار کرتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top