انٹر نیشنل ڈیسک : جاپان کو دنیا کے سب سے مہنگے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے لیکن جب بات بچوں کے مستقبل اور تعلیم کی آتی ہے تو یہاں کا نظام حیران کن ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا خرچ بجٹ سے باہر ہوگا لیکن جاپان نے اپنی تعلیم کی پالیسی کو اتنا لچکدار بنایا ہے کہ وہاں کئی لحاظ سے تعلیم ہندوستان کے پرائیویٹ اسکولوں سے بھی سستی پڑتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کیا ہے جاپان کا تعلیم ماڈل۔
15 سال کی عمر تک تعلیم مفت اور لازمی ہے
جاپان میں اسکولی تعلیم کو بنیادی طور پر تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے
- پرائمری اسکول: 6 سال
- جونئیر ہائی اسکول: 3 سال
- سینئر ہائی اسکول: 3 سال

یہاں 15 سال کی عمر تک تعلیم حاصل کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس عمر تک سرکاری اسکولوں میں ٹیوشن فیس مکمل طور پر معاف ہوتی ہے۔ حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پیسے کی کمی کسی بچے کی بنیادی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنے۔
2025 کی بڑی تبدیلی: اب ہائی اسکول بھی مفت
پہلے جاپان میں 15 سے 18 سال کی عمر (سینئر ہائی اسکول)کے لیے 5000 سے 10000 یین فی مہینہ کی فیس لی جاتی تھی لیکن 2025 سے نافذ نئے قوانین کے بعد سرکاری ہائی اسکولوں کی ٹیوشن فیس کو تقریبا ختم کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب جاپان میں بارہویں جماعت تک کی تعلیم حکومت کی طرف سے تقریباً مفت دی جا رہی ہے۔

بغیر امتحان کے تعلیم اور خاص قوانین
جاپان کے اسکولوں کا ماحول ہندوستا سے کافی مختلف اور دلچسپ ہے
نو امتحان پریشر: چھوٹے بچوں کے لیے وہاں کوئی سالانہ بڑا امتحان نہیں ہوتا۔ سیکھنے پر زور دینے کے لیے صرف ہفتہ وار ٹیسٹ لیے جاتے ہیں۔
یونیفارم کا قانون: وہاں روزانہ یونیفارم کا بوجھ نہیں ہے۔ طلبہ عام کپڑوں میں اسکول جاتے ہیں لیکن فزیکل ایجوکیشن اور لنچ کے وقت انہیں اسکول میں ہی خصوصی سفید کپڑے پہننے ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی: بچوں کو کتابوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے مفت لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل طور پر اپڈیٹ رہیں۔
کتنا آتا ہے اضافی خرچ؟
اگرچہ ٹیوشن فیس صفر ہے لیکن دیگر سرگرمیوں پر خرچ کرنا پڑتا ہے
اسکول ٹرپ، لنچ، کھیل اور اسکول کی ترقی کے لیے والدین کو سالانہ تقریباً 35000 یین خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔
جن خاندانوں کی آمدنی کم ہے انہیں مقامی انتظامیہ مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔

ہندوستان بمقابلہ جاپان: کون بہتر ہے؟
ہندوستان میں بھی سرکاری اسکول مفت تعلیم اور مڈ ڈے میل جیسی سہولیات دیتے ہیں۔ لیکن جاپان کی خاصیت وہاں کے معیار اور انفراسٹرکچر میں ہے۔ ہندوستان میں جہاں متوسط طبقے کے لوگ اچھی تعلیم کے لیے مہنگے پرائیویٹ اسکولوں کی طرف جاتے ہیں وہیں جاپان میں سرکاری اسکولوں کا معیار اتنا بلند ہے کہ لوگ ان پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کر سکتے ہیں ۔