National News

امریکی کارروائی سےٹینشن میں چلی کےصدر، بولے-آج وینزویلا، کل کوئی اور! ذرا سوچواگلا کون؟

امریکی کارروائی سےٹینشن میں چلی کےصدر، بولے-آج وینزویلا، کل کوئی اور! ذرا سوچواگلا کون؟

انٹرنیشنل ڈیسک: چلی کے صدر گیبریل بورک نے وینزویلا کو لے کر سامنے آ رہے بین الاقوامی حالات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر کسی غیر ملکی ملک کی جانب سے وینزویلا کی زمین پر براہِ راست کنٹرول کرنے اور وہاں فوجی کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو یہ پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی خطرناک مثال ثابت ہوگی۔


صدر بورک نے وارننگ دیتے ہوئے کہا، “آج نشانے پر وینزویلا ہے، لیکن کل کوئی اور ملک بھی ہو سکتا ہے۔” ان کا کہنا ہے کہ کسی ملک میں سیاسی تبدیلی تھوپنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ اس سے عالمی نظام میں انتشار پھیل سکتا ہے اور طاقتور ممالک کو کمزور ریاستوں میں مداخلت کرنے کا کھلا لائسنس مل جائے گا۔


بورک نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ پوری دنیا میں غیر استحکام بڑھے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ تنازعات کا حل بات چیت، سفارت کاری اور پرامن طریقوں سے کیا جائے، نہ کہ فوجی مداخلت کے ذریعے۔ چلی کے صدر کی یہ بات ایسے وقت میں آئی ہے جب وینزویلا کو لے کر عالمی سیاست میں تناو¿ بڑھ گیا ہے اور کئی ممالک کے کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
                
 



Comments


Scroll to Top