Latest News

چیٹ جی پی ٹی نے سکھایا 18 سالہ لڑکے کو منشیات لینے کا صحیح طریقہ، پھر جو ہوا ۔۔۔ رو - رو کر ماں نے سنائی آپ بیتی

چیٹ جی پی ٹی نے سکھایا 18 سالہ لڑکے کو منشیات لینے کا صحیح طریقہ، پھر جو ہوا ۔۔۔ رو - رو کر ماں نے سنائی آپ بیتی

نیشنل ڈیسک:  کیلیفورنیا کے اٹھارہ سالہ سیم  نیلسن نے کئی مہینوں تک اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال منشیات اور نشے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کیا۔ اس کی والدہ لیلا ٹرنر- اسکاٹ کے مطابق سیم کالج کی تیاری کر رہا تھا اور اس نے چیٹ بوٹ سے پوچھا تھا کہ کریٹم کتنی مقدار میں لینے سے تیز نشہ ہوتا ہے۔ کریٹم ایک پودے سے بنی درد کم کرنے والی دوا ہے جو امریکہ میں اسموک شاپس اور گیس اسٹیشنوں پر آسانی سے دستیاب ہے۔
ابتدا میں چیٹ بوٹ نے اسے منشیات کے استعمال پر مشورہ دینے سے انکار کیا اور کسی صحت کے ماہر سے مدد لینے کا مشورہ دیا۔ لیکن سیم نے چیٹ ختم کرتے ہوئے لکھا کہ امید ہے میں اوور ڈوز نہیں کروں گا۔
لیکن کئی مہینوں تک چیٹ بوٹ کے ساتھ گفتگو کے دوران مبینہ طور پر یہ نوجوان کو منشیات لینے اور ان کے اثرات کو سنبھالنے کے طریقے سکھانے لگا۔ سیم نے ایک گفتگو میں لکھا کہ ہاں بالکل چلو پوری طرح ٹرپی موڈ میں چلتے ہیں۔ اس کے بعد مبینہ طور پر چیٹ بوٹ نے اسے وہم اور فریب بڑھانے کے لیے کف سیرپ ( کھانسی کے شربت/ دوائی )کی مقدار دوگنی کرنے کا مشورہ دیا۔
لیلا نے بتایا کہ چیٹ بوٹ بار بار محبت بھرے پیغامات اور مسلسل حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ فروری 2023 میں ہونے والی ایک گفتگو کے دوران سیم نے پوچھا کہ کیا زینیکس کی زیادہ مقدار لیتے وقت چرس پینا محفوظ ہے۔ چیٹ بوٹ نے خبردار کیا کہ یہ خطرناک ہے تو سیم نے الفاظ بدل کر درمیانی مقدار لکھ دی۔
مئی 2025 میں سیم نے اپنی ماں کو بتایا کہ چیٹ بوٹ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی وجہ سے وہ منشیات اور شراب کا عادی بن گیا ہے۔ اسے فوراً ایک کلینک لے جایا گیا جہاں ماہرین نے علاج کا منصوبہ بتایا۔
تاہم اگلے ہی دن سیم اپنے سین ہوزے کے بیڈ روم میں اوور ڈوز کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کی ماں نے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ وہ اس کا استعمال کر رہا ہے لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ صورتحال اتنی سنگین ہو سکتی ہے۔
اوپن اے آئی نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی کو غیر قانونی منشیات کے استعمال پر مشورہ دینے سے روکا گیا ہے۔ کمپنی نے اس واقعے کو دل توڑ دینے والا قرار دیا اور خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ اوپن اے آئی کے ترجمان نے کہا کہ ماڈل حساس سوالات پر احتیاط سے جواب دیتا ہے، درست معلومات فراہم کرتا ہے اور صارفین کو حقیقی دنیا میں مدد لینے کی ترغیب دیتا ہے۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ وہ معالجین اور صحت کے ماہرین کے ساتھ مل کر اپنے ماڈل کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے تاکہ یہ ذہنی پریشانی اور خطرے کی علامتوں کو پہچان سکے اور محفوظ ردعمل دے سکے۔
 



Comments


Scroll to Top