Latest News

کئی سالوں کی تلخی کے بعد نئی شروعات : برطانیہ نے بڑھایا چین کی طرف ہاتھ، بیجنگ پہنچے اسٹارمر

کئی سالوں کی تلخی کے بعد نئی شروعات : برطانیہ نے بڑھایا چین کی طرف ہاتھ، بیجنگ پہنچے اسٹارمر

بیجنگ: کئی سالوں کے تناؤ اور اختلافات کے بعد برطانیہ اور چین نے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت میں قدم بڑھایا ہے۔ اسی سلسلے میں چین کے صدر شی جن پنگ اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کو بیجنگ میں ملاقات کی۔ اسٹارمر نے کہا کہ موجودہ مشکل عالمی حالات میں دنیا کے لیے چین کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے صدر شی سے کہا کہ دونوں ممالک کو عالمی استحکام، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر اہم امور پر مل کر کام کرنا چاہیے۔ برطانوی وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ برطانیہ اور چین کو ایک طویل مدتی، مستحکم اور وسیع اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آٹھ سال بعد کسی برطانوی وزیر اعظم کی بیجنگ کے 'گریٹ ہال آف دی پیپل' میں چینی صدر سے یہ پہلی ملاقات ہے۔ اسٹارمر ایسے وقت چین پہنچے ہیں جب برطانیہ کی ملکی معیشت سست ہے اور وہ اپنی صنعتوں کے لیے نئے تجارتی مواقع تلاش کر رہا ہے۔ اس سفر میں اسٹارمر کے ساتھ 50  سے زیادہ کاروباری رہنما اور کئی ثقافتی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے چین کی پارلیمنٹ 'نیشنل پیپلز کانگریس' کے صدر ژاؤ لیجی سے بھی ملاقات کی۔ پچھلے سالوں میں چین کی مبینہ جاسوسی سرگرمیوں، یوکرین جنگ میں روس کی حمایت، اور ہانگ کانگ میں جمہوری آزادیوں پر پابندیوں کے سبب برطانیہ-چین تعلقات میں تلخی آئی تھی۔ ہانگ کانگ 1997 تک برطانیہ کا کالونی رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں سے عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک اب چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسٹارمر اس ماہ چین جانے والے امریکی حلیف ممالک کے چوتھے رہنما ہیں۔ اس سے قبل جنوبی کوریا، کینیڈا اور فن لینڈ کے رہنما بیجنگ آ چکے ہیں، جبکہ جرمنی کے چانسلر کے اگلے مہینے آنے کا امکان ہے۔ برطانیہ کی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے۔ مہنگائی، سرمایہ کاری میں کمی اور عالمی تجارتی بحران نے لندن کو نئے شراکت دار تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایسے میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا چین کا دورہ اقتصادی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹارمر نے صدر شی سے ملاقات میں واضح کیا کہ برطانیہ چین کے ساتھ طویل مدتی اور مستحکم شراکت داری چاہتا ہے۔ اس سفر میں 50 سے زیادہ کاروباری رہنماؤں کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ مذاکرات کا مرکز تجارت اور سرمایہ کاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ برطانیہ اب نظریاتی ٹکراؤ سے ہٹ کر عملی پالیسی اپنانا چاہتا ہے، تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔
 



Comments


Scroll to Top