سڈنی: آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھنی البانیز کو عید الفطر کے موقع پر ایک مسجد میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ سڈنی کے مغربی علاقے میں واقع لکمبا مسجد میں نماز کے بعد لوگوں سے ملنے پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ وزیر داخلہ ٹونی برک بھی موجود تھے۔تقریباً پندرہ منٹ بعد ہی ماحول بدل گیا۔ کچھ مظاہرین نے زور زور سے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ لوگوں نے باہر جاو اور نسل کشی کے حامی جیسے الزامات لگاتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی مخالفت کی۔
یہ احتجاج غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے تھا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ آسٹریلوی حکومت اسرائیل کی حمایت کر رہی ہے جس کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔درحقیقت البانیز حکومت نے متوازن موقف اپنانے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف انہوں نے فلسطینیوں کے لیے تشویش ظاہر کی ہے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی بھی حمایت کی ہے۔
لیکن اس درمیانی راستے سے آسٹریلیا کی مسلم اور یہودی دونوں برادریوں کے کچھ لوگ ناراض ہیں۔ مسلم برادری کا ایک حصہ سمجھتا ہے کہ حکومت اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار نہیں کر رہی۔یہ پورا تنازع اسرائیل حماس جنگ2023 کے بعد مزید بڑھ گیا ہے جب سے غزہ میں تشدد اور ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اس واقعے سے صاف ظاہر ہے کہ غزہ جنگ کے اثرات اب دنیا کے مختلف ملکوں کی اندرونی سیاست اور سماجی ماحول پر بھی پڑ رہے ہیں۔