National News

ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک پیغام:جنگ بندی نہیں بلکہ پوری جنگ کا خاتمہ چاہیے، برطانیہ کو سیدھی وارننگ- مداخلت بڑھی تو جواب ملےگا

ایرانی وزیر خارجہ کا دو ٹوک پیغام:جنگ بندی نہیں بلکہ پوری جنگ کا خاتمہ چاہیے، برطانیہ کو سیدھی وارننگ- مداخلت بڑھی تو جواب ملےگا

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہا کہ ملک صرف جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو غیر قانونی بتایا۔ نقصان کے ازالے اور سلامتی کی گارنٹی کا مطالبہ کیا۔ اور برطانیہ کو خبردار کیا کہ اگر مداخلت بڑھی تو جواب دیا جائے گا۔ سید عباس عراقچی نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ اس جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے کیے گئے حملوں کو غیر قانونی اور بغیر اشتعال کے جارحانہ کارروائی قرار دیا اور عالمی برادری سے اس کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل کی۔
عراقچی کی شرائط۔

  • صرف جنگ بندی سے کام نہیں چلے گا۔
  • مستقبل میں حملے نہ ہوں اس کی گارنٹی چاہیے۔
  • جنگ میں ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کئی ملک ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ایران عارضی معاہدے کو مسترد کر چکا ہے۔ ایران نے کہا کہ ابھی تک امریکہ نے امن کے لیے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اصل حل کے لیے دیانت دارانہ بات چیت ضروری ہے۔
برطانیہ کو سخت وارننگ۔
ایران نے برطانیہ کو براہ راست خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ اس جنگ میں شامل ہوتا ہے تو اسے جواب دیا جائے گا۔ برطانیہ کے فوجی اڈوں کا استعمال جارحانہ کارروائی سمجھا جائے گا۔ دوسری طرف برطانیہ نے جواب میں کہا کہ ایران برطانیہ کے ٹھکانوں یا مفادات کو نشانہ نہ بنائے۔ اگر ایسا ہوا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز اور جاپان سے بات چیت۔
ایران نے اشارہ دیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جاپانی جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔ جاپان کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا میں توانائی کی فراہمی کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایران کا یہ مو¿قف صاف دکھاتا ہے کہ اب وہ ادھورے حل کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو یہ تنازع مزید بڑی علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے۔



Comments


Scroll to Top