انٹرنیشنل ڈیسک: بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے خلاف تشدد مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ پیر کی رات ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا، جس میں نرسنگدی ضلع کے پولاش سب ڈسٹرکٹ علاقے میں ایک معزز ہندو کریانہ تاجر کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس تازہ واقعے کے ساتھ ہی گزشتہ چند دنوں میں مارے گئے ہندوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے، جس سے ملک میں اقلیتی برادری کی سلامتی کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
دکان پر حملہ، ہسپتال میں توڑادم
اطلاعات کے مطابق 5 جنوری 20226 کی رات تقریبا 10بجے چورسندور بازار میں کریانے کی دکان چلانے والے مونی چکرورتی پر نامعلوم حملہ آوروں نے اچانک تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ آس پاس موجود لوگوں نے انہیں فورا ًہسپتال پہنچایا، لیکن علاج کے دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ مونی چکرورتی، مدن چکرورتی کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور علاقے میں ایک دیانت دار اور معزز تاجر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کے قتل سے مقامی ہندو برادری میں خوف اور غصہ دونوں پایا جاتا ہے۔
صحافی کا بھی گولی مار کر قتل
مونی چکرورتی سے پہلے ہندو صحافی رانا پرتاپ بیراغی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ جیسور ضلع کے منیرام پور علاقے میں پیر کی شام تقریبا چھ بجے پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے، رانا پرتاپ کو ان کی برف فیکٹری سے باہر بلایا اور قریب کی ایک گلی میں لے جا کر بحث کے بعد سر میں کئی گولیاں مار دیں، جس سے ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
اب تک چھ ہندؤوں کا قتل
حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش میں جن چھ ہندؤوں کو قتل کیا گیا ہے، ان میں مونی چکرورتی، رانا پرتاپ بیراغی، دیپو داس، امریت منڈل، بجندر بشواس اور کھوکن داس شامل ہیں۔ دیپو داس کا قتل مبینہ توہین کے الزام میں کیا گیا تھا، جبکہ تاجر کھوکن داس پر ہجوم نے حملہ کر کے ان پر پیٹرول ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ کئی دن تک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد ان کا بھی انتقال ہو گیا۔
بڑھتا فرقہ وارانہ تناؤ، خوف کے سائے میں ہندو برادری
مسلسل پیش آنے والے ان واقعات سے بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ تنا ؤمزید بڑھ گیا ہے۔ ہندو برادری میں خوف کا ماحول ہے اور لوگ حکومت سے مضبوط حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سخت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تمام معاملات میں پولیس کی تفتیش جاری ہے، لیکن اب تک کسی بڑی گرفتاری کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔