National News

جنگ کے درمیان ایران نے پہلی بار داغی '' ڈانسنگ میزائل'' ، 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت، اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں کو بنایا نشانہ

جنگ کے درمیان ایران نے پہلی بار داغی '' ڈانسنگ میزائل'' ، 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت، اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں کو بنایا نشانہ

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں جاری جنگ کے درمیان ایران نے اتوار کے روز جدید میزائلوں کی ایک نئی کھیپ داغی۔ ان حملوں میں پہلی بار سجیل میزائل (Sejjil Missile)  کا استعمال کیا گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق اس میزائل سے اسرائیل اور امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار استعمال کی گئی ہے ۔ یہ تنازع اٹھائیس فروری سے جاری ہے اور مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
کیا ہے سجیل ڈانسنگ میزائل؟ 
ایران کا سجیل دو ایک دو مرحلوں (Two-Stage)  پر مشتمل ٹھوس ایندھن سے چلنے والی درمیانی فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل ہے۔ اس کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً دو ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے اور یہ تقریبا سات سو کلوگرام تک کا بوجھ لے جا سکتا ہے۔ اس میزائل کو ڈانسنگ میزائل بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ یہ بلندی پر پرواز کے دوران سمت بدلنے اور تیزی سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے دشمن کے میزائل دفاعی نظام کو دھوکا دینا آسان ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میزائل آئرن ڈوم جیسے فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سائز  اور تکنیکی خصوصیات
امریکہ کے تحقیقی ادارے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق سجیل میزائل کی لمبائی تقریباً اٹھارہ میٹر ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً1.25  میٹر ہے۔ اس کا کل وزن تقریبا 23  ہزار چھ سو کلوگرام بتایا جاتا ہے۔
اس کا ٹھوس ایندھن نظام اسے تزویراتی برتری دیتا ہے کیونکہ اسے پرانے مائع ایندھن والے نظام کے مقابلے میں بہت جلد تیار کر کے داغا جا سکتا ہے۔ ایران کی پرانی شہاب میزائل سلسلہ مائع ایندھن پر مبنی تھی جسے داغنے سے پہلے زیادہ تیاری کی ضرورت ہوتی تھی۔
1990 کی دہائی میں شروع ہوا تھا ترقیاتی کام
سجیل میزائل کے ڈیزائن اور تیاری پر کام1990 کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوا تھا۔ اس کا پہلا تجربہ دو ہزار آٹھ میں کیا گیا تھا جس میں یہ میزائل تقریباً آٹھ سو کلومیٹر تک گیا تھا۔ اس کے بعد مئی  2009 میں دوسری بار اس کا تجربہ کیا گیا جس میں بہتر رہنمائی اور سمت شناسی کے نظام کی جانچ کی گئی۔2009 کے بعد بھی اس کے کئی پرواز تجربات کیے گئے۔ چھٹے تجربے کے دوران یہ میزائل تقریباً1900 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے بحر ہند تک پہنچ گیا تھا۔
جنگ کا سولہواں دن
مشرق وسطی میں جاری یہ جنگ اب سولہویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ٹھکانوں پر مشترکہ حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی جس کے بعد پورے خطے میں جنگ پھیل گئی۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔ دوسری جانب اسرائیل اور امریکہ بھی مسلسل ایران کے فوجی اور تزویراتی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ہزاروں لوگوں کی موت
رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک دو ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے جن میں زیادہ تر لوگ ایران کے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے ایران میں 15000 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں۔
امریکہ نے جنگی جہاز بھیجا
اس دوران امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کر دی ہے۔ امریکہ نے یو ایس ایس ٹرپولی نامی جنگی جہاز کو تقریبا ڈھائی ہزار میرین فوجیوں کے ساتھ مشرق وسطی کے علاقے میں بھیجا ہے تاکہ جنگ کی صورت میں امریکی مفادات کا دفاع کیا جا سکے۔
 



Comments


Scroll to Top