انٹرنیشنل ڈیسک: محبت اور دیوانگی کے درمیان لکیر کب دھندلی ہو جاتی ہے، اس کی ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی مثال امریکہ سے سامنے آئی ہے۔ یہاں کیسی (Cassie)نامی ایک خاتون نے اپنے شوہر کی موت کے بعد جو کچھ کیا، اس نے پوری دنیا کے طبی حلقوں اور ماہرینِ نفسیات کو حیران کر دیا۔ شوہر کی جدائی میں ٹوٹ چکی یہ خاتون اس کی راکھ (استھیوں) کھانے کی عادی ہو گئی تھی۔
ایک صدمہ اور عجیب و غریب آغاز
کیسی کی زندگی اس وقت تباہ ہو گئی جب اس کے شوہر کی اچانک دمے کے دورے سے موت ہو گئی۔ وہ اپنے شوہر سے اس قدر محبت کرتی تھی کہ اس نے ان کی استھیوںکو کبھی خود سے دور نہیں ہونے دیا۔ ایک دن استھی کلش ( استھی کی راکھ کا برتن ) سے کچھ راکھ کیسی کے ہاتھوں پر گر گئی۔ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کے باعث اس نے راکھ کو دھونے کے بجائے اسے چاٹ لیا۔ آہستہ آہستہ یہ ایک ایسی لت بن گئی کہ کیسی اپنے ہر کھانے پر شوہر کی راکھ کو کسی مصالحے کی طرح چھڑک کر کھانے لگی۔
سڑے ہوئے انڈے جیسا ذائقہ، پھر بھی مجبوری
کیسی نے ایک انٹرویو میں اپنی اس عجیب و غریب لت کے بارے میں کھل کر بتایا۔ اس نے بتایا کہ راکھ کا ذائقہ سڑے ہوئے انڈے جیسا انتہائی خراب تھا، لیکن وہ خود کو روک نہیں پاتی تھی۔ کیسی کا کہنا تھا کہ میں اپنے شوہر کو کھونا نہیں چاہتی، اس لیے انہیں کھا کر اپنے جسم کے اندر سمو لینا چاہتی ہوں۔
طبی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
صحت کے ماہرین کے مطابق یہ کوئی معمول کا رویہ نہیں بلکہ ایک سنگین کھانے کی بیماری ہے جسے پیکا (Pica)کہا جاتا ہے۔
پیکا کیا ہے؟ یہ ایک ایسی ذہنی اور جسمانی حالت ہے جس میں انسان ایسی چیزیں کھانے لگتا ہے جو خوراک نہیں ہوتیں، جیسے مٹی، راکھ، چاک، پینٹ یا بال۔
خطرناک نتائج: ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی راکھ میں بھاری مقدار میں کیمیائی مادے اور زہریلے عناصر ہوتے ہیں، جو جسم کے اعضا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔