National News

تین طرح کے مسلمان ہوتے ہیں، جوتے چاٹنے والے ، جوتے کھانے والے اور ۔۔۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر کا متنازعہ بیان

تین طرح کے مسلمان ہوتے ہیں، جوتے چاٹنے والے ، جوتے کھانے والے اور ۔۔۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر کا متنازعہ بیان

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم پارٹی کے لیڈر توقیر نظامی کا مسلمانوں سے متعلق ایک متنازع ویڈیو سامنے آیا ہے۔ ویڈیو میں توقیر نظامی کچھ غیر مہذب زبان استعمال کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو تین کیٹیگری میں تقسیم کیا ہے۔ قابل اعتراض بیان کو لے کر اب سوال اٹھنے لگے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اس بیان پر سخت اعتراض درج کیا ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم پارٹی کے لیڈر توقیر نظامی نے ایک جلسے کے دوران کھلے اسٹیج سے کہا کہ تین طرح کے مسلمان ہوتے ہیں۔ ایک وہ ہوتے ہیں جو جوتے چاٹنے کا کام کرتے ہیں، وہ کانگریس میں ملیں گے۔ دوسرا وہ مسلمان ہوتے ہیں  جو جوتے کھانے کا کام کرتے ہیں، وہ بی جے پی میں ملیں گے۔ اور تیسرا وہ مسلمان ہوتے ہیں جو جوتے مارنے کا کام کرتے ہیں، وہ اے آئی ایم آئی ایم پارٹی میں ملیں گے۔ پھر انہوں نے جلسے میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ مسلمانوں اب بتا ؤ تم کون سے مسلمان ہو۔ جوتے کھانے والے، جوتے چاٹنے والے یا جوتے مارنے والے مسلمان۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر کا ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

PunjabKesari
البتہ بیان پر ہنگامہ بڑھنے پر توقیر نظامی نے صفائی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا بیان تشدد کو بڑھاوا دینے کے لیے نہیں ہے۔ میں بات سے جوتا مارنے کی بات کہہ رہا تھا۔ کانگریس نے مسلمانوں کو سو فیصد ووٹ کے بدلے صرف دو سیٹیں دیں۔ مسلمان اب جاگ جاؤ اور سڑک پر آؤ۔
بی جے پی نے جتایااعتراض
کابینہ وزیر وشواس سارنگ نے توقیر نظامی کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ہو یا سماج، قابل اعتراض الفاظ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اویسی اور ان کی پارٹی کے لیڈر قوم کو بھڑکا کر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی باضابطہ شکایت سامنے آتی ہے تو امن و امان میں خلل ڈالنے اور اشتعال انگیز بیان بازی کے تحت کارروائی کی جائے گی۔



Comments


Scroll to Top