انٹرنیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری شدید جنگ کے درمیان اب راحت کی ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ مسلسل حملوں، میزائلوں اور تباہی کے بعد حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد اب ایران نے بھی دو ہفتوں کی جنگ بندی پر مہر لگا دی ہے، جس سے اس تنازع پر عارضی بریک لگتاکھائی دے رہا ہے۔ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل نے اس معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کی ثالثی، نئے سپریم لیڈر کی منظوری
یہ معلومات مہر خبر رساں ایجنسی کے ذریعے سامنے آئی۔ بیان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی ثالثی سے ہوا ہے اور اسے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری حاصل ہے۔ ایران نے اس معاہدے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ مستقل امن کے لیے آئندہ بات چیت اسلام آباد میں ہوگی۔

آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محفوظ آمد و رفت
جنگ بندی کے بعد ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند ہوتے ہیں تو اس کی فوج بھی جوابی کارروائی روک دے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں اعلان کیا کہ دو ہفتوں کے لیے یہاں سے جہازوں کو محفوظ آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ ایرانی فوج کے تعاون اور تکنیکیشرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
دس بمقابلہ پندرہ نکات کی تجویز،بات چیت جاری
عراقچی نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے پندرہ نکات کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ایران کی دس نکات پر مشتمل تجویز کو بھی بات چیت کی بنیاد کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔
اسرائیل بھی تیار، ابھی سرکاری تصدیق نہیں
اطلاعات کے مطابق اسرائیل بھی اس جنگ بندی کے لیے راضی ہو گیا ہے۔ ایک امریکی خبر رساں چینل نے وائٹ ہاؤس کے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے یہ دعوی کیا ہے، جسے اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان نے بھی نشر کیا ہے۔ تاہم ابھی تک اسرائیل یا امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔