Latest News

جنگ بندی پر ٹرمپ کا بیان - ہم جنگ سے امن کی راہ پر، مغربی ایشیا کے لئے نئے سنہرے دور کی شروعات

جنگ بندی پر ٹرمپ کا بیان - ہم جنگ سے امن کی راہ پر، مغربی ایشیا کے لئے نئے سنہرے دور کی شروعات

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فی الحال ایران پر فوجی کارروائی روک دے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ دو ہفتوں کے لیے لیا گیا ہے تاکہ سفارتی حل کی تلاش ممکن ہو سکے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس خطے میں جہازوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے میں مدد کرے گا۔  اس آبنائے ہرمز  سے دنیا کے تقریبا بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل  ہوتی ہے ، اس لیے یہاں امن قائم رکھنا انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کو عالمی امن کے لیے بڑا دن قرار دیا اور کہا کہ یہ قدم مغربی ایشیا میں ایک نئے سنہری دور کی شروعات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس فیصلے سے خطے میں استحکام آئے گا اور اقتصادی سرگرمیاں بڑھیں گی۔
اس پورے واقعے میں شہباز شریف اور پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر کا کردار اہم بتایا جا رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ٹرمپ سے بات چیت کر کے فوجی حملے روکنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے بعد پاکستان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز دی، جسے ایران نے بھی قبول کر لیا۔
ایران کی شرائط
تاہم ایران نے واضح کر دیا ہے کہ یہ بات چیت جنگ کے خاتمے کا اشارہ نہیں ہے۔ ایران نے دس نکات پر مشتمل تجویز پیش کی ہے، جس میں تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنا، پھنسے ہوئے اثاثے واپس کرنا، جنگ میں ہوئے نقصان کی تلافی وغیرہ اہم مطالبات شامل ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ جب تک یہ تمام شرائط پوری نہیں ہوتیں، جنگ ختم نہیں سمجھی جائے گی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اگلی اہم بات چیت دس اپریل کو اسلام آباد میں ہوگی۔ اس اجلاس میں جنگ بندی کو مستقل بنانے اور شرائط کو حتمی شکل دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
 



Comments


Scroll to Top