نیشنل ڈیسک: انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا اور جزیرہ سولاویسی کے درمیان واقع ایک پہاڑی علاقے کے قریب پہنچتے وقت ایک علاقائی مسافر طیارے کا گراؤنڈ کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ طیارے میں 11 افراد سوار تھے۔ یہ جانکاری حکام نے دی ہے ۔ حکام کے مطابق تلاش اور بچا ؤکا آپریشن جاری ہے۔
وزارتِ ٹرانسپورٹ کی ترجمان انڈاہ پورنما ساری نے بتایا کہ انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ کے زیرِ انتظام ٹربو پروپ اے ٹی آر 42-500 طیارہ یوگیاکارتا سے جنوبی سولاویسی کے دارالحکومت کی جانب جا رہا تھا، اسی دوران وہ ریڈار سے غائب ہو گیا۔ طیارے کی آخری لوکیشن دوپہر 1 بج کر 17 منٹ پر جنوبی سولاویسی صوبے کے ایک پہاڑی ضلع ماروس کے لیانگ لیانگ علاقے میں درج کی گئی تھی۔ ساری نے ایک بیان میں کہا کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور زمینی یونٹوں کے تعاون سے متعدد تلاش اور بچاؤ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
ماؤنٹ بولوسارانگ پر کوہ پیماوں کی جانب سے بکھرے ہوئے ملبے، انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ کے نشان سے مشابہ لوگو اور جائے وقوعہ پر آگ دیکھنے کی اطلاع کے بعد ملبہ ملنے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ جنوبی سولاویسی کے حسن الدین فوجی کمانڈر میجر جنرل بنگون ناووکو نے کہا کہ اس بارے میں معلومات حکام کو دے دی گئی ہیں اور بچاؤ ٹیمیں مذکورہ علاقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔
ساری نے کہا کہ اے ٹی سی کی جانب سے آخری ہدایات کے بعد ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا اور کنٹرولرز نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچاؤ ٹیموں نے اپنی تلاش ان پہاڑوں کے اردگرد مرکوز کر دی ہے جہاں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ طیارہ سلطان حسن الدین بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کے اپنے راستے سے بھٹک گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ طیارے میں عملے کے آٹھ ارکان اور وزارتِ بحری امور اور ماہی پروری کے تین مسافر سوار تھے۔