واشنگٹن: امریکہ نے وینزویلا سے متعلق ضبط کیے گئے ایک تیل کے ٹینکر کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنامہ کے پرچم تلے رجسٹرڈ اس ٹینکر کا نام ایم ٹی صوفیہ (M/T Sophia) ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ضبط کیے گئے کسی تیل کے ٹینکر کو وینزویلا کو واپس کیا جا رہا ہے۔ ایم ٹی صوفیہ کو 7 جنوری 2026 کو امریکی کوسٹ گارڈ اور فوجی دستوں نے سمندر میں روکا تھا۔ اس وقت امریکی انتظامیہ نے اسے ایک بے شناخت اور پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والا ڈارک فلیٹ ٹینکر قرار دیا تھا۔
🇺🇸 U.S. HANDS BACK SEIZED TANKER TO VENEZUELA
The U.S. is giving the M/T Sophia back to Venezuela after seizing it on January 7. No word yet on why it’s being returned or if the oil’s still sitting inside.
It’s one of several Venezuela-linked tankers the U.S. has scooped up… pic.twitter.com/ILcXwMr6vN
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) January 29, 2026
امریکہ کا الزام تھا کہ یہ جہاز وینزویلا کے پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل کے کاروبار سے منسلک ہے۔ امریکہ گزشتہ چند مہینوں سے وینزویلا کی تیل برآمدات کے خلاف سخت کارروائی کر رہا ہے۔ اس مہم کے تحت 2025 کے آخر سے اب تک سات تیل کے ٹینکر ضبط کیے جا چکے تھے۔ ان ٹینکروں کو وینزویلا کے نام نہاد 'شیڈو یا ڈارک فلیٹ' کا حصہ بتایا گیا، جو پابندیوں سے بچ کر تیل کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے اب تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ایم ٹی صوفیہ کو واپس کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔
یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جہاز میں اب بھی تیل موجود ہے یا نہیں۔ اس فیصلے کو امریکہ کی اب تک کی سخت پالیسی میں ایک اچانک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات، عالمی تیل کی منڈی اور پابندیوں کی پالیسی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکہ وینزویلا کے تیل کے معاملے پر اپنی حکمت عملی میں نرمی لانے جا رہا ہے۔