Latest News

جنگ کے پانچویں سال میں زیلنسکی کی ٹرمپ سے اپیل ، آپ ہمارے ساتھ کھڑے رہیں، پوتن ایک شخص نہیں ، بلکہ ۔۔۔

جنگ کے پانچویں سال میں زیلنسکی کی ٹرمپ سے اپیل ، آپ ہمارے ساتھ کھڑے رہیں، پوتن ایک شخص نہیں ، بلکہ ۔۔۔

انٹرنیشنل ڈیسک: روس یوکرین جنگ چوتھے سال کی سالگرہ پار کر کے پانچویں برس میں داخل ہو رہی ہے۔ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور علاقائی رعایتوں پر کیف سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کیف میں دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر  ڈونالڈ ٹرمپ سے واضح الفاظ میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے رہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ امریکہ ایک جمہوری ملک کے طور پر اس قوم کے ساتھ کھڑا رہے جو ایک شخص کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ان کا اشارہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب تھا۔
زیلنسکی نے کہا کہ پوتن ایک شخص نہیں بلکہ پوری جنگ ہیں۔ سب کچھ ایک شخص کے گرد گھوم رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں یہ تجویز دی گئی کہ اگر یوکرین کچھ علاقائی رعایتیں دے دے یا انتخابات کرا لے تو تنازع کم ہو سکتا ہے۔ لیکن زیلنسکی نے واضح کیا کہ مشرقی دونیتسک کا علاقہ چھوڑنا تقریبا دو لاکھ شہریوں کو غیر محفوظ چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔ ان کا پیغام صاف تھا کہ روس چاہتا ہے کہ ہم اپنی فوج ہٹا لیں۔ ہم اتنے بے وقوف نہیں ہیں۔ ہم بچے نہیں ہیں۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ کیف کسی بھی امن معاہدے میں مزید زمین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 24  فروری کو روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے چار سال مکمل ہوئے۔ صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ روس نے تین دن میں کیف پر قبضے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آزادی بچائی ہے اور اپنی ریاستی خودمختاری نہیں کھوئی۔ پوتن  اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے۔ یوکرین کا ماننا ہے کہ جنگ کے نتائج کو شکل دینے میں امریکہ کا کردار فیصلہ کن ہے۔ 
زیلنسکی نے اشارہ دیا کہ روس پر کافی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا۔ ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی آنے والے مہینوں میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ زیلنسکی نے آخر میں کہا کہ ہم امن اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ گلوری ٹو یوکرین۔ جنگ اب صرف علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کا سوال بن چکی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top